Al-Risala · February 1986 · page 19

مفاد پرستی

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹

مفاد پرستی

ایک لطیفہ ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جب یروشلم گئے تو اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم مناہن بیگن ان کو دیوارِ گریہ کے پاس لے گئے جو یروشلم میں یہودیوں کی مقدس ترین جگہ ہے۔ وہاں جمی کارٹر نے دعا کرتے ہوئے کہا اے خدا عربوں کو اور اسرائیل کو امن تک پہنچنے میں مدد کرے۔ " بیگن نے کہا "آمین۔ " اس کے بعد کارٹر نے دعا کی کہ خدایا، مصریوں کو اور اسرائیل کو پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ بیگن نے کہا " آمین"۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے دعا کی کہ خدایا، اسرائیلیوں کو بتا دے کہ وہ عربوں کو وہ تمام علاقے واپس کر دیں جن پر انھوں نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں قبضہ کیا ہے۔ یہ سن کر بیگن نے کہا " جناب صدر، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک دیوار کو خطاب کر رہے ہیں"؛

When former US president Carter visited Jerusalem, Israel's Prime Minister Begin took him to the Wailing Wall. "Oh God," Carter prayed, "please help the Arabs and Israelis to find peace."

"Amen," said Begin.

"And please, God, let the Egyptians and Israelis live in peaceful co-existence."

"Amen," said Begin.

"And please tell the Israelis to return to the Arabs all the territories they occupied in the 1967 War."

"I would like to remind you, Mr President," said Begin, "that you are talking to a wall."

Reader's Digest, May 1981

یہ صرف اسرائیلی وزیر اعظم کا لطیفہ نہیں، یہی موجودہ زمانہ کے تمام انسانوں کی تصویر ہے۔ لوگ انصاف کی باتیں کرتے ہیں مگر اس سے مراد صرف وہ انصاف ہوتا ہے جس کا فائدہ ان کی اپنی ذات کو مل رہا ہو، جو انصاف ان کی اپنی ذات کے خلاف فیصلہ دے اس سے لوگوں کو کوئی دل چسپی نہیں۔ لوگ دعاؤں پر آمین کہتے ہیں مگر ان کی آمین صرف اس دعا کے لیے ہوتی ہے جس کی زد دوسروں پر پڑ رہی ہو، جس دعا کی زد خود ان کے اپنے اوپر پڑے اس دعا کے اوپر کوئی آمین کہنے والا نہیں۔ لوگ حق پرستی کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کی حق پرستی کا مطلب دوسروں پر اپنے حقوق ثابت کرنا ہے، جو حق انھیں ان کی اپنی ذمہ داریاں یا د دلائے اس حق کا آج کی دنیا میں کوئی خریدار نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page