مغالطہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰
مغالطہ
کولن ولسن (Colin Wilson) انگریزی زبان کا شاعر تھا۔ اس کے خیالات بہت سخت تھے۔ اس کو بیسویں صدی کے سارے مغربی ادب کا انسان شکست خوردہ ، مفلوج اور قنوطیت زدہ نظر آتا ہے۔ اس کے نزدیک آج کا انسان اس ذہنی مرض میں مبتلا ہے جس کو وہ (Fallacy of significance) یعنی بے اہمیت کا مغالطہ کہتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کا زیادہ بڑا ذہنی مرض وہ ہے جو اس کے برعکس نفسیات پیدا کرتا ہے اور وہ اہمیت کا مغالطہ (Fallacy of insignificance) ہے۔ کچھ لوگ بعض تاریخی یا غیر تاریخی اسباب کے تحت اپنے آپ کو غیر ضروری طور پر اہم سمجھ لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ اپنے آپ کو صحیح طور پر سمجھ پاتے اور نہ دوسروں کے بارے میں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنے میں کامیاب ہوتے۔
بے اہمیت کا مغالطہ ایک ذہنی مرض ہے۔ تاہم اس ذہنی مرض کا نقصان آدمی کی صرف اپنی ذات کو پہو نچتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو فرضی طور پر غیر اہم سمجھ لے وہ اقدام سے گھبرائے گا۔ وہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے اپنے آپ کو نا اہل سمجھے گا۔ وہ اپنی فعالیت کھودے گا اور متحرک دنیا میں بے حس و حرکت پڑا رہے گا۔ مگر یہ سب ذاتی نقصان کی چیزیں ہیں۔ بے اہمیت کے مغالطہ کی قیمت آدمی کو خود ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس مغالطہ کی دوسری قسم اس سے زیادہ سنگین ہے۔ بے اہمیت کا مغالطہ اپنی ذات کے حق میں زہر ہے اور اہمیت کا مغالطہ پورے سماج کے حق میں زہر۔
اہمیت کے مغالطہ میں مبتلا ہونے والا آدمی اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھ لیتا ہے جتنا کہ فی الواقع وہ ہے ۔ وہ غیر واقعی طور پر اپنے کو بڑا سمجھنے لگتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کو جو درجہ دیتے ہیں وہ اس کو اس سے کم نظر آتا ہے جو اس کے اپنے نزدیک اس کا درجہ ہے۔ اس لیے دوسرے تمام لوگ اس کو ظالم نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اپنے سوا ہر ایک کو برا سمجھنے لگتا ہے۔ وہ ہر ایک کا دشمن بن جاتا ہے۔ یہ اہمیت کا مغالطہ اگر آدمی کے اندر پست ہستی پیدا کرتا ہے تو اہمیت کا مغالطہ آدمی کو جارح بنا دیتا ہے ۔ اور جارحیت بلاشبہ سماج کے حق میں پست ہستی سے زیادہ ہلاکت خیز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues