Al-Risala · February 1986 · page 24

قرآنی طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۴

ایک سفر

دسمبر ۱۹۸۵ء میں بما کو (افریقہ) میں ایک اسلامی کا نفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف سے ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس سفر کا راستہ تھا : دہلی - روم - دکار - بما کو، دوسرے لفظوں میں ایشیا سے یورپ اور پھر یورپ سے افریقہ۔ کانفرنس کے بعد بما کو - پیرس - لندن۔ کویت - دہلی۔ دہلی کے راستہ سے واپسی ہوئی۔

بہت سے لوگوں کے لیے سفر ایک تفریح ہوتا ہے۔ مگر میرے لیے سفر ایک مصیبت ہے۔ چنانچہ میں گھر سے بادل ناخواستہ ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ دہلی ائیر پورٹ پر پہونچ کر مجھے اس قدر وحشت ہونے لگی کہ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ واپس چلو، مجھے سفر پر نہیں جانا ہے۔ میرے قدم کسی طرح آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ مگر ساتھی کے اصرار اور دینی مصلحت کے خیال سے مجھے آگے جانا پڑا۔

میرے مزاج میں فطرت پسندی اتنی زیادہ ہے کہ مجھے ہر مشینی سفر سے وحشت ہوتی ہے۔ اگر پیدل سفر کرنا ممکن ہو تو یقیناً میں پیدل سفر کروں مگر ظاہر ہے کہ ایشیا سے یورپ، اور یورپ نے افریقہ اور امریکہ کا سفر پیدل - طے نہیں کیا جا سکتا۔

میری یہ کیفیت بھی عجیب ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو پا کر عام لوگ خوش ہوتے ہیں ان کو پا کر میں ایسا غم زدہ ہوتا ہوں جیسے وہ چیز مجھے کاٹ رہی ہو۔ ۴ دسمبر ۱۹۸۵ء کی رات کو پالم ائیر پورٹ پر مسافروں کا ہجوم تھا۔ لوگ خوش و خرم چہروں کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہو رہے تھے۔ مگر میں اپنے خیالات میں گم تھا۔ میرے ہاتھ میں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ میرے لیے روم (اٹلی) اور دکار (سینیگال) میں ہوٹل کے کمرے رزرو تھے۔ بما کو (افریقہ) پہونچ کر مجھے فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرنا تھا۔ مگر میرا حال یہ تھا کہ جیسے قدم اٹھ نہ رہے ہوں۔ آخر جب میں جہاز کے اندر داخل ہوا تو میری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ میرے دل کو ایک لمحہ کا سکون بھی حاصل نہ تھا۔ اللہ اپنے اس بندے پر رحم فرمائے جس کا حال یہ ہے کہ جہاں لوگ ہنستے ہیں وہاں اسے رونا آتا ہے۔ جہاں لوگ اپنے کو پایا ہوا سمجھتے ہیں وہاں اس کو ایسا لگتا ہے جیسے اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیوی کامیابی پر قانع نہ ہونے والے آدمی کی اندرونی حالت اتنی مختلف ہوتی ہے کہ اس کو وہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے جو دنیوی کامیابی پر قانع ہو گئے ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page