قرآنی طریقہ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۳
کعب بن اشرف (یہودی سردار) کے پاس چلو اور اس سے فیصلہ لو۔ اس پر یہ آیت اتری۔ سورہ نساء کی مذکورہ آیت میں ایک خاص بات دیکھنے کی یہ ہے کہ اس میں جو کچھ کہا گیا ہے صرف مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے۔ اس میں یہودی عدالت کے خلاف کوئی بیان نہیں جہاں مدینہ کے یہ مسلمان اپنا فیصلہ لینے گئے تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کے معاملہ میں اصلاح کا قرآنی طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ساری توجہ مسلمانوں کی اصلاح پر صرف کی جائے۔ کیوں کہ اس خرابی کا اصل سبب مسلمانوں میں ہے نہ کہ غیر مسلم عدالت میں۔
کوئی عدالت خود سے اقدام کرکے کسی کے معاملہ میں دخل نہیں دیتی۔ عدالت اپنا فیصلہ صرف اس وقت دیتی ہے جب کہ کوئی شخص اپنا فیصلہ لینے کے لیے اس کے یہاں جائے اور ان شہادتوں (Evidences) کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے جو اس کے سامنے پیش کی گئی ہوں۔
مسلمان اگر غیر مسلم عدالت میں اپنا مقدمہ نہ لے جائیں تو غیر مسلم عدالت کو یہ موقع ہی نہ ملے گا کہ وہ مسلمانوں کے معاملہ میں اپنا فیصلہ دے۔ گویا اس طرح کے معاملہ میں غیر مسلم عدالت کے خلاف چیخ پکار کرنا اپنی غلطی کا الزام دوسرے کے سر ڈالنا ہے۔ اور اس قسم کا غیر منصفانہ عمل یقینی طور پر اسلامی اصول کے سراسر خلاف ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں اصل قصور وار مسلمان ہیں نہ کہ غیر مسلم عدالت۔ اور جب قصور وار مسلمان ہیں تو دوسرے کے خلاف ہنگامہ کرنے سے کیا فائدہ۔
مذکورہ قرآنی طریقہ کی روشنی میں اب اس معاملہ کو جانیے ہو حال میں شاہ بانو اور محمد احمد (اندور) کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پیش آیا ہے۔ قرآن کے مطابق اس معاملہ میں مسلم قائدین کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو ملامت کرتے کہ تم غیر مسلم عدالت میں کیوں اپنا مقدمہ لے جاتے ہو۔ تمہارے وہاں جانے ہی کی وجہ سے غیر مسلم عدالت کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ تمہارے عائلی معاملات میں اپنا فیصلہ دے۔ اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہیے کہ تم اپنے مقدمات اپنے علماء کے سامنے پیش کرو اور وہ از روئے شریعت جو فیصلہ دیں اس کو مان لو۔ اس ملک میں کثرت سے دار الافتاء ہیں۔ امارت شرعیہ ہے۔ پھر تم ان کو چھوڑ کر غیر مسلم عدالت میں کیوں جاتے ہو۔ مسلم قیادت نے یہ اصل کام تو نہیں کیا۔ البتہ وہ سپریم کورٹ اور غیر مسلم حکومت کے خلاف ہنگامہ کرنے میں مصروف ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ قرآنی طریقہ نہیں۔ یہ لیڈری ہے نہ کہ قرآن کی پیروی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues