Al-Risala · February 1986 · page 26

قرآنی طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۶

رومی سیاست داں مارکس سسرو (Marcus Tillius Cicero) نے دو ہزار سال پہلے کہا تھا کہ بجٹ متوازن ہونا چاہیے ، ورنہ حکومت دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر آج روم کی حکومت پر 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے۔ اس قرض پر اس کو روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپیہ کا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم ، واٹر سپلائی ، اسپتال ، ڈاک، ہر چیز کا نظام غیر معیاری ہے۔ ہم کو نیویارک سے دہلی کے لیے ٹیلی فون ہفتوں میں مل گیا تھا۔ یہاں سے ہم نے دہلی ٹیلی فون کرنا چاہا مگر کافی کوشش کے بعد بھی سلسلہ نہیں ملا۔ روم میں بجلی کے بارے میں ایک میگزین میں یہ لطیفہ پڑھا کہ روم میں بجلی نہ اے سی ہے اور نہ ڈی سی ہے۔ وہ ایم سی ہے۔ یعنی خراب کرنٹ ؛ It is neither AC nor DC, but MC Malfunctioning Current. اسی طرح ایک اور لطیفہ پڑھنے میں آیا کہ روم کے ایک شخص کے نام ۲۷ ٹیلی فون کالوں کا بل آگیا جب کہ درخواست کے باوجود ابھی تک اس کے یہاں ٹیلی فون بھی نہیں لگا تھا۔

روم میں جرائم بھی کافی ہوتے ہیں۔ ایک فرانسیسی سیاح ایک مقام پر اپنی موٹر کار روک کر اترا۔ پولیس نے اس کو ہدایت کی کہ وہ کار کے دروازے اچھی طرح بند کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مگر جب وہ سیر کر کے واپس آیا تو اس کی کار کے سات سوٹ کیس چوری ہو چکے تھے۔ اس کے بعد وہ قریب کے پولیس دفتر میں رپورٹ درج کرانے گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کی کار بھی غائب تھی۔

ایک سیاح نے بتایا کہ روم میں اس کا ایک مسئلہ پیدا ہوا تو ایک مقامی باشندے نے اس سے کہا : Don’t get upset. Rome is Rome. The key word, my friends, is PAZIMENZA (patience)

پریشان نہ ہو میرے دوست ، کلیدی لفظ صرف ایک ہے، اور وہ ہے برداشت۔

روم کی ایک خاص چیز ویٹیکن سٹی ہے۔ یعنی مسیحی پیشوا کا شہر۔ ویٹیکن سٹی رقبہ کے اعتبار سے ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بے حد چھوٹا ہونے کے باوجود اٹلی سے بھی زیادہ ذی اثر ہے۔ وہ رومن کیتھولک چرچ کا عالمی مرکز ہے۔ ویٹیکن اٹلی کے اندر ہونے کے باوجود مکمل طور پر خود مختار ہے۔ مگر یہ خود مختاری اس کو اس قیمت پر ملی ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کو غیر سیاسی دائرہ میں محدود کر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page