يُعْجِبُ الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعاني
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۵
انگریزی الرسالہ روانہ کروں گا۔
ان سے میں نے انگریزی الرسالہ کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو انھوں نے کہا :
It is a very impressive and relevant piece of literature about Islamic realities. ( یہ اسلامی حقیقتوں کے بارے میں ایک بے حد موثر اور بہت متعلق ادب پارہ ہے ) موصوف گیانا کے اسلامک سنٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔
افریقہ کا مشہور تاریخی شہر تمبکٹو (Tumbukto) اسی مالی میں واقع ہے ۔ تمبکٹو چودھویں صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی عیسوی تک اس علاقہ میں اسلامی تعلیم اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ تمبکٹو کی بنیاد غالباً بتہ میں پڑی ۔ ابتداً اس نے تجارتی مرکز کی حیثیت سے ترقی کی۔ اس کے بعد وہ ثقافتی اور علمی مرکز بن گیا ۔ یہاں قدیم زمانہ میں کئی اسلامی یونیورسٹیاں قائم تھیں جن میں علم حاصل کرنے کے لیے دور دور کے طلبہ آتے تھے۔ تمبکٹو کی مرکزی حیثیت ۱۵۹۱ء میں ختم ہوئی جب کہ وہ مراکو کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد وہاں بار بار انقلاب بات آتے رہے ۔
۱۰ دسمبر ۱۹۸۵ کے لیے ایک ہوائی جہاز چارٹر کیا گیا تھا اور کانفرنس کے تمام شرکار اس کے ذریعہ تمبکٹو کو دیکھنے کے لیے جانے والے تھے۔ مگر بعض وجوہ سے مجھے جلد دہلی پہونچنا تھا اس لیے میں تمبکٹو کے سفر میں شریک نہ ہوسکا اور ۹ دسمبر کی شام کو بما کو سے دہلی کے لیے روانہ ہوگیا۔
۹ دسمبر ۱۹۸۵ کو یہاں کا اسلامی مرکزدیکھا۔ بما کو کا یہ اسلامی مرکز شارع زائد بن سلطان پر واقع ہے وہ ۳۵ ہزار مربع میٹر کے رقبہ میں پانچ ملین ڈالر کے خرچ سے بنایا گیا ہے ۔ اس کا فنڈ عرب ملکوں نے ادا کیا ہے۔ یہاں کی مسجد میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی ۔
کانفرنس کے تمام شرکار اجتماعی طور پر مرکز میں لے جائے گیے تھے۔ یہ مرکز ابھی بن کر تیار ہوا ہے ۔ تاہم ابھی اس میں کام نہیں شروع ہوا ہے ۔ لوگ گھوم گھوم کر شاندار مرکز کے مختلف حصے دیکھ رہے تھے اور پرجوش طور پر باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموش اپنے خیالات میں کھویا ہوا ان کے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس دوران ایک افریقی عالم استاذ احمد دراے میرے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے میرے بارہ میں کہا :
يُعْجِبُ الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعاني
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues