Al-Risala · February 1986 · page 37

يُعْجِبُ الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعاني

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۷

بسا کو کی اسلامی کانفرنس کا افتتاح ۶ دسمبر ۱۹۸۵ کی شام کو ہوا۔ افتتاح کی تقریب میں مالی کے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم اور دوسرے بہت سے ذمہ دار موجود تھے ۔ اس کانفرنس میں تین زبانیں رائج تھیں ــ عربی، انگریزی اور فرانسیسی ۔ اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے نمائندہ افراد شریک ہوئے ۔ چنانچہ کویت کے نمائند ہ نے تقریر کی تو انھوں نے اپنی تقریر میں یہ الفاظ استعمال کیے۔ اتينامن مشارق الارض ومن مغاربها اس کانفرنس میں حسب ذیل ملکوں کے اہل علم مسلمان شریک تھے : کناڈا، مالی، قبرص، یونان، سعودی عرب، مالدیپ، سوئزرلینڈ، میڈاگاسکر، انگلینڈ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، برازیل، سوڈان، ایکنیا، ہندوستان، ترکی، کویت، پاکستان، گیانا، شام، فلپائن، فلسطین، غانا، گیمبیا، ہالینڈ، یوگوسلاویہ، افغانستان، کوریا، تیونس، نائیجیریا، یمن، جاپان ۔

کانفرنس میں زیادہ تر دو قسم کے امور پر تقریریں اور مباحثے ہوئے، ایک اسلامی دعوت، دوسرے اسلام یا مسلمانوں پر دوسری قوموں کے حملے ۔ تاہم کانفرنس پر دوسرا موضوع زیادہ نمایاں رہا۔ ہر علاقہ کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقے کی مشکلات بیان کیں ۔ خاص طور پر وہ مشکلات جو صهیونیت، کمیونزم اور جدید استعمار کی طرف سے پیدا کی گئی ہیں۔

دعوت کا موضوع زیادہ تر دفاعی طور پر سامنے آیا۔ موجودہ زمانہ میں مسیحی مبلغین کافی سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں پر کام کر رہے ہیں۔ پوپ نے پچھلے چند برسوں میں چار بار افریقہ کا سفر کیا ہے۔ مسیحی چرچ نے طے کیا ہے کہ مسلمانوں کے بڑے حصہ کو یا تو مسیحی بنا دیا جائے اور اگر وہ مسیحی بننے پر راضی نہ ہوں تو ان کے ذہن کو اس طرح بدل دیا جائے کہ اپنے مذہب میں ان کی فکری جڑیں باقی نہ رہیں ۔ وہ نہ مسلمان ہوں اور نہ عیسائی ۔ کانفرنس کے شرکاء کا عام احساس یہ تھا کہ چرچ کے لوگ جتنے منظم طور پر اپنا دعوتی کام کرتے ہیں اتنے منظم طور پر مسلمان اپنا دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں ۔ اس لیے اسلامی دعوت کے کام کو زیادہ منظم اور زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page