Al-Risala · February 1986 · page 38

يُعْجِبُ الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعاني

الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸

کانفرنس میں اس موضوع پر کافی گفتگو ہوئی کہ افریقہ میں مسیحی مبلغین ممسلمانوں کو عیسائی بنا رہے ہیں۔ اس کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔ ایک افریقی نمائندے نے بتایا کہ مسلمانوں میں مسیحی تبلیغ کی کامیابی کی اصل وجہ مسلمانوں کا افلاس ہے۔ افریقہ کے بہت سے حصوں میں زندگی بے حد سخت ہے ۔ لوگوں کے پاس لباس اور مکان تک نہیں ۔ مسیحیت قبول کرکے انھیں یہ سب چیزیں مل جاتی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ہم سب کچھ کھو چکے ہیں ۔ پھر کیا حرج ہے اگر ہم دین کو بھی کھودیں ( فقد ناكل شيئ فلا باس اذا فقدنا الدين لان المسألة الان مسألة البقاء والانقراض من الحياة)

بتایا گیا کہ یہی وجہ ہے کہ مذہب بدلنے کے تمام واقعات صرف دیہاتی علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں افلاس زیادہ ہے۔ شہروں میں کوئی مسلمان مذہب نہیں بدلتا ۔ کیوں کہ وہاں مذہب بدلے بغیر آدمی اپنے لیے اسباب معاش پالیتا ہے ۔ مادی محرک کے تحت عیسائی ہو جانے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ جو مسیحیت قبول کرتے ہیں وہ بعد کو دوبارہ مسلمان ہو جاتے ہیں ۔

ایک صاحب نے کہا کہ تبدیلی مذہب کی اصل وجہ مادی افلاس نہیں بلکہ ذہنی افلاس ہے ۔ اسلامی شعور نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے (کل هذا ناتج عن فقدان الوعى الاسلامي) ان کا خیال تھا کہ ہم کو سب سے زیادہ افریقی مسلمانوں ، خاص طور پر دیہات کے مسلمانوں ، کی تعلیم پر زور دینا چاہیے ۔ یہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہو جائیں تو اپنے آپ اس قسم کے فتنوں سے بچ جائیں گے ۔ ایک عرب عالم نے بتایا کہ یورپ کے ایک شخص کو اسلام کا مطالعہ کرایا گیا ۔ مطالعہ کے بعد اس نے کہا: اے وہ جس کے پاس سچا دین ہے کاش اس کے پاس مردان کار بھی ہوتے (ياله من دين لو كان له رجال) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج آسمان کے نیچے اسلام ہی واحد سچا دین ہے مگر اس کے حامل سلمان اس حد رہے جان ہو چکے ہیں کہ ان کے بل پر کوئی حقیقی کام کرنا ممکن نہیں ۔ مسلمانوں کی مثال دیمک زدہ لکڑی کی ہے ۔ دیمک زدہ لکڑی سے کیا کام لیا جا سکتا ہے ۔

ایک مصری عالم نے مسلمانوں کی حالت کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس کے عادی ہو گئے ہیں کہ آج زمین میں دانہ ڈالیں اور کل سے پہلے اس کے پھل کی امید کریں ( تعود المسلمون ان يبذروا بذرة اليوم ويرجون الثمرة قبل امس) تاہم انھوں نے کہا کہ ہمیں ہمت سے کام لینا چاہیے ۔ ہمیں اس اندیشہ سے بیٹھ نہیں جانا چاہیے کہ ہمیں ناکامی ہوگی ( لا يجب ان نصاب بالشلل للحدن رشدية

‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues

Printed page