I am trying to be a good listener
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۴۱
والاسلام - وقد اعلن احد المهندسين البلجيكيين اسلامه في هذ الملتقی اس اجتماع کے دوران مسیحی چرچ نے بھی ایک نشست میں شرکت کی ۔ اس میں مسیحیت اور اسلام کے تعلق کے بارہ میں ڈائیلاگ ہوا ۔ اس موقع پر بلجیم کے ایک عیسائی انجینئر نے اسلام قبول کر لیا ۔ انھوں نے ممیں بتایا کہ اجتماع کے بعد ہالینڈ کے ایک گاؤں میں بہت سے عیسائی اسلام میں داخل ہو گئے ۔
اسلام کی دعوت اسلام کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ مگر اسلام کے علم بردار اس کی اسی قوت کو موجودہ زمانہ میں سب سے کم استعمال کر رہے ہیں ۔
افریقہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ ممباسا کے ایک عیسائی نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس کے بعد اس نے سواحلی زبان میں ایک کتاب لکھی ۔ اس کتاب کا نام ہے : میں نے مسیحیت کو کیوں چھوڑا۔ اس کتاب میں مذکورہ نو مسلم نے بتایا کہ انجیل کے مطابق مسیح نے فرمایا کہ میں یہود کے لیے آیا ہوں۔ اس کے برعکس محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں ــــ اسلام عالمی اپیل کے لیے اپنے اندر کس قدر زیادہ سامان رکھتا ہے۔ مگر مسلمان اپنے چھوٹے چھوٹے قومی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ وہ اسلام کے عالمی اظہار کے لیے موجودہ زمانہ میں کچھ نہ کر سکے ۔
بماء کوسے واپسی میں ایک فرانسیسی انجینئر سے ایئر پورٹ پر ملاقات ہوئی اس نے اپنا نام بانار (Barnar) بتایا۔ تقریبا آدھ گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں بائبل پڑھتا ہوں اور اس پر عقیدہ رکھتا ہوں مگر میں چرچ نہیں جاتا۔ زید نے پھر پوچھا کہ کیوں ، اس نے کہا کہ اس لیے کہ بائبل اور چرچ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے ۔ اس نے کہا : مثلاً بائبل میں بت بنانا سختی سے منع کیا گیا ہے مگر چرچ میں آپ جائیے ، تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ بت بنا بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح کی ابینیت کے بارہ میں اس نے کہا کہ اس طرح حقیقی معنوں میں خدا کے بیٹے نہیں تھے ۔ بیٹے کے لفظ کو میں تمثیلی مانتا ہوں نہ کہ حقیقی ۔ اس طرح کی باتیں دیر تک ہوتی رہیں ۔
امریکہ سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ ۸۵ - ۱۹۸۴ میں ایتھوپیا میں قحط کا مسئلہ پیدا ہوا تو امریکی حکومت نے ابتداً اس میں کوئی دل چسپی نہ لی ۔ مگر بعد کو یہ مسئلہ اخبارات میں بہت زیادہ نمایاں ہوا۔ مختلف ملکوں نے اس مد میں بڑی بڑی رقمیں دیں ۔ اس کے بعد یہ مسئلہ امریکہ کے لیے ساکھ کا مسئلہ بن گیا کیوں کہ امریکہ عالمی قیادت کا دعویدار ہے اور اتنے بڑے انسانی مسئلہ میں حصہ نہ لینا اس کی قیادت کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues