I am trying to be a good listener
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۲۰
ہیں ۔ یعنی وہ لوگ جو ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے وطن کو چھوڑنے پر ہوتے ہیں (معزز مقرر خود بھی ایک پناہ گزین تھے جو اپنے وطن کو چھوڑ کر اب یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں ) پناہ گزینوں کی اس تعداد میں تقریباً سات ملین مسلمان ہیں ۔ نصف ملین پناہ گزین اس وقت صرف سوڈان میں موجود ہیں۔ ایک صاحب نے اس موضوع پر تقریر کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا :
Why they are refugee? Because they are fighting for Islam. ( یہ لوگ کیوں پناہ گزیں ہیں ، اس لیے کہ وہ اسلام کی خاطر لڑ رہے ہیں )
یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ وہ دنیا بھر میں اپنے قومی مقاصد کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کہتے ہیں ۔ مزید یہ کہ یہ لڑائیاں بھی بے فائدہ لڑائیاں ہیں، کیوں کہ وہ حقیقی تیاری کے بغیر لڑی جا رہی ہیں۔ اس قسم کی جھوٹی لڑائیوں کو اسلامی جہاد کہنا میرے نزدیک اسلامی جہاد کے لفظ کی سخت نا قدری کرنا ہے ۔
ایک ادارہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ ان کے ادارہ میں ایک معمر خاتون آئیں اور کہا کہ میں حج پر جانا چاہتی ہوں ۔ مگر میرے پاس سفر خرچ کی رقم نہیں ہے ۔ آپ لوگ میرے لیے سفر خرچ کا انتظام کر دیں تاکہ میں حج کے لیے جا سکوں ۔ خاتون سے کہا گیا کہ جب آپ کے پاس سفر خرچ نہیں ہے تو شرعی طور پر آپ کے اوپر حج فرض بھی نہیں ہے، پھر آپ کیوں اس کے لیے سوال کر رہی ہیں۔ خاتون نے جواب دیا :
میں سترہ سال سے برابر ہر سال حج کے لیے جارہی ہوں ، پھر اس سال میں کیوں اس سے محروم رہوں ۔ جب اسلام اپنی حقیقی شکل میں باقی نہ رہے تو اسی قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ۔
اسلام کا اصل ہتھیار دعوت ہے ۔ یہی اس کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اگرچہ دعوت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ تاہم اسلام اپنے زور پر برابر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ ہالینڈ کے کے بارہ میں ایک تقریر میں وہاں کے مسلمانوں کے حالات بتائے گئے ۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو تفصیلات پیش کیں ان میں یہ بھی تھا کہ ہالینڈ کے شہر او ترخت (Utrecht) میں ایک اجتماع ہوا ۔ اس اجتماع میں یورپ اور امریکہ کے کئی مسلمان شریک ہوئے ۔ اجتماع کے دوران ایک نشست ہوئی جس میں مسیحی چرچ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو کچھ کہا اس میں یہ الفاظ بھی تھے :
وقد شاركت الكنيسة في حوارجرى في هذا الملتقى حول العلاقة بين المسيحية
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues