الرجاء عدم رمى المناشف المستعملة فى المرحاض
الرسالہ، فروری ۱۹۸۶، صفحہ ۴۳
ہے وہ بہتر نظام نہیں ہے بلکہ روح کی غذا ہے جس سے آج کا انسان محروم ہے۔ اسلام کوروح کی غذا کی حیثیت سے پیش کرنا ہی آج دعوت اسلامی کا اصل کام ہے۔
پیرس سے لندن تک ایئر فرانس کے ذریعہ سفر ہوا۔ لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایئرویز کے ذریعہ روانگی ہوئی جہاز کے اندر برٹش ایئر ویزکا ماہنامہ تھا۔ اس کا نام انہوں نے اونچی زندگی (Highlife) رکھا ہے۔ اسی طرح اس کے صفحہ ۱۳۸ پر سیکو گھڑی کا اشتہار تھا۔ اس میں گھڑی کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Man invented time. Seiko perfected it. انسان نے وقت ایجاد کیا۔ سیکو نے اس کو معیاری حیثیت دی) آدمی کو جب کسی کام سے دل چسپی ہو تو وہ اسی طرح اپنی بات کہنے کے لیے خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔ بڑے الفاظ بولنا ہمیشہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ آدمی جس معاملہ میں بول رہا تھا اس معاملہ سے اس کو کوئی قلبی لگاؤ نہ تھا۔
برٹش ایئرویز کے اندر جب مسافروں کو لاؤڈ اسپیکر پر ہدایات دی گئیں تو سب سے پہلے عرب خاتون کی زبان سے عربی میں اعلان کیا گیا۔ اسی طرح مختلف اعلانات عربی زبان میں لکھے ہوئے تھے ۔ مثلاً ٹائیلٹ میں حسب ذیل اعلان اس طرح لکھا ہوا تھا کہ انگریزی کی لائن نیچے تھی اور عربی کی لائن اوپر :
الرجاء عدم رمى المناشف المستعملة فى المرحاض
جہاز کے اناونسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے عملہ میں انگریزی، جرمن، فرنچ، اسپینی، عربی، اردو اور پنجابی جاننے والے لوگ موجود ہیں۔ آپ کسی بھی ضرورت کے لیے ان سے اپنی زبان میں کہہ سکتے ہیں۔ یہ اعلان سن کر میں نے سوچا کہ برٹش ایئر ویز کو بین الاقوامی سطح پر اپنی تجارت چلانا ہے اس لیے اس نے اپنے عملہ میں ہر زبان کے آدمیوں کا انتظام کیا ہے۔ مگر عالمی اسلامی دعوت کا جذبہ اتنا موثر نہ ہوسکا کہ ہمارے کسی اسلامی ادارہ کے اندر ہر زبان کے جاننے والے فراہم کیے جائیں تاکہ ہر زبان کے جاننے والے ان سے اسلام کا تعارف حاصل کرسکیں ۔ شاید دنیوی محرک انسان کے لیے اخروی محرک سے زیادہ طاقت ور ہے ۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام صرف ایک قوم کے لیے آیا تھا تو تمام مسلمان اس سے لڑ جائیں گے۔ مگر عملاً تمام مسلمان اسلام کو ایک قوم کی چیز بنائے ہوئے ہیں ۔
۱۱ دسمبر ۱۹۸۵ کی صبح کو میں دہلی واپس پہنچا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1986 All issues