Al-Risala · February 1987 · page 47

Where from you get this magazine?

الرسالہ، فروری ۱۹۸۷، صفحہ ۴۷

مکرمی جناب حکیم عبدالقیوم صاحب ، لکھنو السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مورخہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۶ ملا۔ آپ نے میرے بیان کی تردید میں تین مسلمانوں کی مثالیں پیش کی ہیں جنھوں نے قرآن کو مسزاندرا گاندھی کے سامنے "تحفہ" پیش کیا تھا۔ عرض ہے کہ آپ نے الرساله نومبر ۱۹۸۶ کا صفحہ ۴۲۔ ۴۳ غالباً زیادہ غور سے نہیں پڑھا ورنہ آپ کو معلوم ہو جاتا کہ میں نے جو لکھا ہے کہ کسی مسلم قائد نے مسزاندرا گاندھی کے سامنے خدا کی کتاب پیش نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی نے بطور تحفہ قرآن پیش نہیں کیا۔ بلکہ واضح طور پر میری مراد یہ ہے کہ قرآن کو جس طرح پیش کرنا تھا اس طرح پیش نہیں کیا۔ ایک کتاب جب کسی کو دی جائے تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ پانے والا شخص واقعی معنوں میں اس کو لائق مطالعہ سمجھے ، دینے والا اس کتاب کے حق میں تجسس کی فضا پیدا کر سکے ۔ مسز پریم نارائن گپتا کے ہاتھ میں جب اندرا گاندھی نے مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کو دیکھا تو " پر یم نارائن گپتا " کا نام ہی تجسس پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ مگر جب دینے والا " عبد الرحیم " ہو تو صرف نام مطلوبہ تجسس پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ایسی حالت میں لازمی طور پر کچھ مزید چیزوں کی ضرورت ہوگی۔ ۱- ہندوستان کے مسلمانوں نے اس ملک میں مسلسل جو قومی سیاست اختیار کر رکھی ہے اس کے نتیجہ میں وہ اس ملک میں صرف " مانگنے والی قوم " بن کر رہ گئے ہیں۔ اس ملک کے غیر مسلموں کی نظر میں مسلمانوں کی یہ تصویر باقی نہیں رہی ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے وہ دوسروں کو دے سکیں۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ اپنی اس تصویر کو بدلنا ہو گا ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ان کی دی ہوئی کتاب غیر مسلم صاحبان کو قابل مطالعہ کتاب نظر آئے ۔

۲۔ دوسری چیز فرد سے متعلق ہے۔ اس سلسلہ میں براہ کرم میری مطبوعہ تحریر کے ان الفاظ کو دوبارہ پڑھیں: "مسلم قائدین میں سے کوئی ایک بھی قائد نہیں جس نے ایسا کیا ہو کہ وہ اپنی رات کی تنہائیوں میں نمازیں پڑھ کر مسزاندرا گاندھی کی ہدایت کے لیے دعا کرے۔ صبح کو اٹھ کر وہ دو رکعت صلوۃ الحاجہ پڑھے اور رو رو کر اللہ سے مدد کی درخواست کرے ۔ اس کے بعد وہ قرآن کا ترجمہ لے کر مسٹر اندرا گاندھی کے یہاں جائے اور درد و سوز کے انداز میں ان سے گفتگو کر کے انھیں خدا کی کتاب پیش کرے ! " یہ آخری کم سے کم بات ہے جو کسی مسلمان فرد کو قرآن پیش کرنے والا بناتی ہے۔ اگر یہ آخری بات بھی نہ پائی جائے تو قرآن کو بطور تحفہ پیش کرنا موجودہ حالت میں صرف ایک مذاق ہے۔ اس کو خدا کی کتاب پیش کرنے کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ (۲۲ دسمبر ۱۹۸۶)

‹ Previous page Next page › Contents of February 1987 All issues

Printed page