Al-Risala · March 1987 · page 2

اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲

سبق آموز

حضرت امیر معاویہ نے ایک بار دمشق میں کچھ چادریں تقسیم کیں ۔ ان میں سے ایک چادر دمشق کے ایک بوڑھے آدمی کو پہنچی جو انصار سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ چادر انصاری بزرگ کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے غصہ میں آکر کہا کہ خدا کی قسم، میں اس چادر کو معاویہ کے سر پر ماروں گا۔ (وَاللّٰہِ لاضربنّ بها رَأْسَ مُعَاوِيَةَ)

حضرت امیر معاویہ اس وقت عظیم اسلامی سلطنت کے خلیفہ تھے۔ انھیں یہ بات پہنچی تو وہ اس کو سن کر غصہ نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس جو کچھ پیش آیا وہ واقعہ بیان کرنے والے کے الفاظ میں یہ تھا :

فاستدعاہ الخليفة وكشف لـه عن حضرت امیر معاویہ نے اس انصاری بزرگ کو اپنے رأسہ وقال اُوتِ بيمينك وليبرأت یہاں بلایا اور ان کے سامنے اپنا سر کھول دیا الشيخ بالشيخ اور کہا کہ اپنی قسم پوری کرو۔ البتہ ایک (الدعوة ۱۲ جمادی الاولی ۷،- ۱۴) بوڑھے کو چاہیے کہ وہ دوسرے بوڑھے پر نرمی کرے ۔ انصاری نے شرمندہ ہو کر معافی مانگی اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے ۔ حضرت امیر معاویہ اگر اس کے جواب میں خود بھی غصہ ہو جاتے اور مذکورہ شخص کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے تو مسئلہ اور بڑھتا۔ دونوں طرف سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا۔ پورے سماج میں منفی رجحانات جنم پاتے۔ مگر انھوں نے اس سے کوئی منفی اثر نہیں لیا اور غصہ کا جواب ٹھنڈک سے دیا تو فریق ثانی خود جھک گیا۔ مزید یہ کہ پورا سماج منفی رجحانات کی پرورش سے بچ گیا۔ حضرت امیر معاویہ سوچ سکتے تھے کہ اگر میں مذکورہ رویہ اختیار کروں تو رعایا کے اوپر خلیفہ کا دبدبہ ختم ہو جائے گا اور حکومت کا نظم قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ مگر یہ نہایت سطحی سوچ ہے ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، اور نہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ اس عام مفروضہ کے بالکل برعکس ہے۔ اس دنیا میں اس سے زیادہ طاقتور کوئی شخص نہیں جو سختی کا جواب نرمی سے دے۔ جو سرکشی کے جواب میں فریق ثانی کو نرمی اور محبت کا تحفہ پیش کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page