Al-Risala · March 1987 · page 3

نازک پارسل

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳

نازک پارسل

آپ نے دیکھا ہوگا کہ سامان ہوں کے بعض پارسل پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ احتیاط سے اٹھاؤ (Handle with care) یہ وہ پارسل ہیں جن میں کوئی نازک چیز (مثلاً شیشہ) پیک ہوتا ہے۔ اس طرح کے پارسلوں کے ساتھ اگر بے احتیاطی کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ان کے اندر کا سامان ٹوٹ سکتا ہے۔ اس لیے ایسے پارسلوں کے اوپر یہ ہدایت لکھ دی جاتی ہے کہ ان کو اٹھانے اور رکھنے میں احتیاط کرو۔

پارسلوں میں تو ایسے پارسل بہت کم ہوتے ہیں جن کے ساتھ اس قسم کا نازک مسئلہ وابستہ ہو۔ مگر آج کل کے انسانوں کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام لوگ اسی قسم کے نازک پارسل ہیں۔ ہر آدمی گویا مسٹر پرابلم (Mr. Problem) یا مسٹر ہینڈل ودھ کیئر (Mr Handle with care) بنا ہوا ہے۔ یہ وہ انسان ہیں جن کے ساتھ ذرا سا بھی کوئی خلاف مزاج بات پیش آ جائے تو وہ فوراً بگڑ جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے خلاف اس قسم کی شکایتیں لیے پھرتے ہیں کہ اُس نے یہ کہہ دیا، اس نے وہ کہہ دیا۔ ایسے لوگ خدا کی زمین پر بوجھ ہیں ۔ ان کے ذریعہ کبھی کوئی طاقت ور سماج نہیں بن سکتا ۔ بہترین انسان وہ ہے جو لوہے کی مانند ہو۔ جس کو آہستہ دیکھیے تب بھی وہ لوہا رہتا ہے اور اگر زور سے پٹک دیجیے تب بھی وہ لوہا رہتا ہے۔ وہ جھٹکوں سے غیر متاثر رہ کر جینا جانتا ہے۔ رسول اللہ کے اصحاب ایسے ہی لوہا صفت انسان تھے۔ وہ اس قسم کی باتوں سے بہت اوپر اٹھ گئے تھے، عمر فاروق نے خلیفہ اول ابو بکر صدیق کے ایک فرمان کو کھلے عام پھاڑ ڈالا (معذرتہ عمر) مگر خلیفہ اول نے اس کو کچھ بھی برا نہیں مانا۔ عائشہ صدیقہ نے ایک صحابی (ابو ہریرہ) کے متعلق کہہ دیا کہ ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا (کذب ابو ہریرة) مگر صحابی نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا، وغیرہ ۔

سیرت کی کتابوں میں اس طرح کے سیکڑوں واقعات ملتے ہیں۔ ایک صحابی کو دوسرے صحابی سے بار بار ناموافق تجربہ ہوتا تھا مگر وہ لوگ اس کا اثر لیے بغیر آپس میں سچائی بھائی بنے رہتے تھے۔ وہ اس طرح کی باتوں کی بالکل پروا نہیں کرتے تھے۔ اصحاب رسول اگر آج کل کے لوگوں کی طرح نازک پارسل ہوتے تو وہ کبھی وہ طاقت ور انقلاب برپا نہیں کر سکتے تھے جس نے تاریخ عالم کے رُخ کو موڑ دیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page