گہر اکام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۴
گہر اکام
لندن میں ۱۸۸۳ میں فیبین سوسائٹی (Fabian Society) قائم ہوئی۔ اس کا مقصد صنعتی انقلاب سے پیدا شدہ معاشی نابرابری کو ختم کرنا تھا۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کی جگہ سوشلزم کے انداز کا نظام لانا تھا۔ اس سوسائٹی میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک جارج برنارڈ شا (۱۹۵۰ - ۱۸۵۶) تھا۔ برنارڈ شا بہت موثر تقریر کرتا تھا۔ اس نے اپنی تقریروں اور مضامین کے ذریعہ اس تحریک کے گرد ایک بھیڑ جمع کر لی اس کے بعد اس نے عوامی مظاہرہ کا منصوبہ بنایا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جلوس نکالا ۔ اس جلوس میں زیادہ تر درمیانی طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جب مارچ کرتے ہوئے لندن کے ان علاقوں میں پہونچے جہاں بڑے بڑے دولت مند رہتے تھے تو ان کے کچھ افراد تشدد پر اتر آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے ۔
اس پہلے تجربہ کے بعد ہی برنارڈ شا جلوس اور مظاہرہ کا سخت مخالف ہو گیا ۔ اس نے کہا کہ عوام کو " پر امن مظاہرہ " کا پابند رکھنا انتہائی حد تک مشکل ہے ۔ اس لیے ہم اپنے مقصد کے لیے مظاہرہ کے بغیر جدو جہد کریں گے ۔ اس کے بعد فیبین سوسائٹی پریس، اجتماعات، علمی ریسرچ وغیرہ جیسے غیر مظاہراتی طریقوں کی پابند رہ کر کام کرنے لگی۔ فیبین سوسائٹی نے جارج برنارڈ شا اور اس کے ساتھیوں کی رہنمائی میں تدریجی طریقہ کار کی ناگزیریت(Inevitableness (Inevitable ness of gradualism) پر زور دیا۔ اس تحریک کے لوگ سوشلزم کو مانتے ہیں مگر وہ ارتقائی سوشلزم پر عقیدہ رکھتے ہیں ہے نہ کہ انقلابی سوشلزم پر :
The Fabians put their faith in evolutionary Socialism rather than in revolution (EB-IV/20). غیر مظاہراتی طریق عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موجودہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کام میں اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے۔ توسیع کے بجائے استحکام پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ شہرت اور مقبولیت کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گمنامی میں دفن کرنے کے لیے راضی ہونا پڑتا ہے ۔ چنانچہ فیبین سوسائٹی کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فیبین سوسائٹی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues