انسانی دماغ
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۶
انسانی دماغ
ایک سائنس داں نے انسانی دماغ کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی دماغ ہمارے تمام کمپیوٹر اور سپر کمپیوٹر سے بے حساب گنا زیادہ پیچیدہ ہے ۔ اس نے لکھا ہے کہ اگر ایک ایساڈیو پیکر کمپیوٹر بنایا جائے جس کا ساز و سامان (Infrastructure) سات منزلہ بلڈنگ میں پھیلا ہوا ہو تو وہ انسانی دماغ کا صرف ایک سادہ خاکہ (Rough sketch) ہو گا۔
ایک اور سائنس داں نے لکھا ہے کہ انسانی دماغ ۱۰ بلین سے لے کر ۱۵ بلین الگ الگ اعصابی خلیوں یا نیورون پر مشتمل ہوتا ہے، یعنی دنیا کی موجودہ آبادی سے پانچ گنا زیادہ۔ اس کے مقابلہ میں شہد کی ایک مکھی کے دماغ کے خلیوں کی تعداد ۹۰۰ ہوتی ہے اور چیونٹی کے دماغ کے خلیوں کی تعداد صرف ۲۵۰ :
The brain of man contains between 10 and 15 billion separate nerve cells or neurons, just about five times the present population of the world. By comparision, the brain of a bee has 900 cells and that of an ant only 250. (The Hindustan Times, 21 February 1982)
ایک مرد کے دماغ (Brain) کا وزن تقریباً ۱۴۰۰ گرام ہوتا ہے ۔ اس مختصر مادہ میں اتنے حیرت ناک اوصاف بھرے ہوئے ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ دماغ آدمی کے جسم کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ وہ سوچتا ہے اور فیصلے کرتا ہے ۔ وہ نئی نئی باتیں دریافت کرتا ہے ۔ وہ ہر قسم کی معلومات کو بے اندازہ مقدار میں اپنے حافظہ کے خانہ میں جمع رکھتا ہے اور عین وقت پر اس کو نکال کر ذہن کے حوالے کر دیتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ۔
دماغ کا یہ معجزانہ واقعہ ایک برتر دماغ (خدا) کی موجودگی کا ثبوت ہے ۔ اگر ایک برتر دماغ رکھنے والا خالق موجود نہ ہو تو دماغ جیسی حیرت ناک چیز وجود میں نہیں آسکتی۔ جانوروں میں بھی ذہانت ہوتی ہے ۔ مثلاً بیور (Beavers) بند کی قسم کے پل بناتے ہیں ۔ چڑیاں گھونسلے بناتی ہیں۔ شہد کی مکھیاں چھتہ بناتی ہیں۔ مگر یہ تمام جانور ہمیشہ ایک ہی قسم کی چیز بناتے ہیں۔ وہ سوچ کر اس میں کوئی فرق کرنایا اس میں کوئی ارتقا کرنا نہیں جانتے۔ جب کہ انسان سوچتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues