Al-Risala · March 1987 · page 7

آخرت کا معاملہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۷

آخرت کا معاملہ

ستمبر ۱۹۸۶ میں مجھے دہلی کی ایک کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ اس کانفرنس کا افتتاح ایک انتہائی اعلیٰ سیاسی شخصیت کے ذریعہ ہونے والا تھا۔ اس بنا پر وہاں حفاظت کا غیرمعمولی انتظام تھا۔ اجتماع گاہ میں داخل ہونے والے ہر شخص کی جانچ الیکٹرانک آلات کے ذریعہ ہورہی تھی۔ میں جب اجتماع گاہ کے گیٹ پر پہنچا تو فوراً حفاظتی پولیس کے کئی آدمی میری طرف بڑھے تاکہ میری باقاعدہ جانچ کریں۔ مگر اس وقت میرے ساتھ کانفرنس کی انتظامیہ کمیٹی کے ایک اعلیٰ عہدیدار (مسٹر بجاج) تھے۔ انہوں نے فوراً مداخلت کی اور کہا : انھیں اندر آنے دو، ان کی جانچ نہیں کرنی ہے۔

جب یہ واقعہ ہوا تو اچانک مجھے قیامت کا منظر یاد آگیا۔ میں نے سوچا کہ آخرت میں اسی طرح جب آدمی آگے کی طرف بڑھنا چاہے گا تو خدا کے فرشتے فوراً اس کو جانچ کے لیے روک لیں گے ۔ اس وقت وہی شخص بچے گا جس کے متعلق خدا یہ کہہ دے کہ اس کی جانچ مت کرو۔ اس کو اندر آنے دو۔ اس کے برعکس جو شخص جانچ کرنے والے فرشتوں کے حوالے کر دیا گیا اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں ۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں وہی لوگ نجات پائیں گے جن کا آسان حساب (حساب یسیر) لیا جائے ۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص جانچا گیا وہ ہلاک ہوا (من نوقش فقد ھلک) ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت میں کوئی شخص اپنے عمل سے نہیں بچ سکتا، وہاں صرف وہ شخص بچے گا جس کو اللہ اپنی رحمت اور فضل کے سایہ میں ڈھانپ لے۔ آدمی کو اگر قیامت میں پیش آنے والی اس سنگین صورت حال کا احساس ہو تو دنیا میں اس کا رویہ بالکل بدل جائے گا۔ کسی بھائی کو وہ سختی میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کے لیے ناممکن ہو جائے گا کہ وہ اس کے معاملہ میں غیر جانبدار ہو جائے۔ کیوں کہ وہ ڈرے گا کہ موت کے بعد جب جانچ کے فرشتے اس کی طرف بڑھیں گے اس وقت خدا اگر میرے معاملہ میں غیر جانبدار ہو جائے تو میرا کیا انجام ہوگا۔ اس کے بعد کون سی دنیا ہوگی جہاں مجھے پناہ مل سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page