گھر کا امام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵
نفرت اور عداوت کے جذبات ابھر آئیں گے۔ گھر کے ہر فرد کا دماغ تخریبی سوچ کا کارخانہ بن جائے گا۔ گھر کے اندر معافی کے بجائے انتقام، اعراض کے بجائے ٹکراؤ کی باتیں ہونے لگیں گی۔ اپنی کمیوں کا اعتراف کرنے کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ ہر شخص بس فریق ثانی کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہو گا۔ یہ سب کچھ گھر کے بڑے شخص کی رہنمائی میں ہوگا۔ گھر کا بڑا شخص اپنی باتوں سے سب کے ذہن کو بگاڑ دے گا۔ گھر کے تمام لوگ مفسد بن جائیں گے اور وہ ان تمام مفسدوں کا امام ۔
ھب لنا من ازواجنا وذرياتنا قرة اعين کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان کو نیک عمل بنا دے تاکہ انہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں (يعنى اجعلهم صالحين تقر بهم اعيننا التفسير المظہری) اجعلنا للمتقين اماما کی تفسیر مفسرین نے یہ کی ہے کہ ہم کو نمونہ بنا دے جس کی پیروی متقی لوگ کریں (ای اجعلنا قدوة يقتدى بنا المتقون، صفوة التفاسير)
گھر کے بڑے کے اندر اگر یہ مزاج ہو کہ اپنے بیوی بچوں کو صالح دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہوں، اس کے لیے اپنے گھر کے اندر سب سے زیادہ محبوب منظر یہ ہو کہ اس کے بیوی بچے خدا پرستی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں۔ اگر ایسا ہو، جبھی یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے امام خیر بنے۔ امام خیر بننے کی ایک قیمت ہے۔ اور وہ قیمت دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دینا ہے۔ جو شخص یہ قیمت ادا کرے اسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے امام خیر بن سکے ۔
اس کے برعکس اگر گھر کے بڑے کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہو کہ اس کے بیوی بچوں کے گرد دنیا کی رونقیں جمع ہوں۔ اس کا سب سے زیادہ پسندیدہ منظر یہ ہو کہ اس کے گھر والے دنیوی ترقیوں کے گنبد پر کھڑے نظر آئیں تو وہ اپنے گھر والوں کے لیے صرف امام شر بن سکتا ہے۔ کیوں کہ امام شر بنے بغیر بیوی بچوں کی دنیوی خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں ۔
ایسا شخص لازماً مفاد پرستی کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ناجائز کو جائز بنائے گا۔ وہ اپنے بچوں کی خاطر خود سب سے پہلے غیر خدا پرست بنے گا، اور پھر اس کو دیکھ کر اس کے گھر والے بھی غیر خدا پرست طریقہ پر چل پڑیں گے۔ اس کی روش آخر کار اس کو اپنے گھر والوں کے لیے شرکا امام بنا دے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues