گھر کا امام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴
گھر کا امام
قرآن میں جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ان میں سے ایک دعا یہ ہے : اے ہمارے رب ، ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ اور ہم کو متقیوں کا امام بنا دے (رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اماماً)
یہ آیت دعا کے انداز میں بتا رہی ہے کہ اہل ایمان کا گھر انا کیسا ہوتا ہے اور ایک مومن کو اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح رہنا چاہیے ۔ اس کا مطلب بدلے ہوئے الفاظ میں یہ ہے کہ گھر کے اندر جو معاملات پیدا ہوں ان میں ہم اپنے گھر والوں کو متقیانہ رہنمائی دیں۔ ہم اپنے گھر والوں کو مفسدانہ رہنمائی دینے والے نہ بنیں ۔
گھر کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ ایسے مواقع پر گھر کے چھوٹے وہی کہتے ہیں جو گھر کے بڑے کریں۔ گھر کے بڑے جس رخ پر چلیں ، گھر کے چھوٹے بھی اسی رخ پر چل پڑتے ہیں۔ گھر کے معاملات میں گھر کا بڑا شخص گھر کا رہنما ہوتا ہے ۔ اگر اس بڑے شخص کے اندر فساد ہو تو اس کی مفسدانہ رہنمائی گھر کے تمام لوگوں کو مفسد بنا دے گی ۔ وہ مفسدوں کا امام بن کر ظاہر ہو گا ۔ اور اگر اس بڑے شخص کے اندر تقویٰ ہو تو اس کی متقیانہ رہنمائی سب کو متقی بنا دے گی ۔ وہ متقیوں کا امام بن کر ظاہر ہوگا۔
مثال کے طور پر گھر والوں کو کسی سے شکایت پیدا ہو گئی ۔ اب گھر کا بڑا شخص اگر انصاف پسندی کا طریقہ اختیار کرے ، وہ ایسی بات کہے جس سے شکایتی ذہن دبے اور لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہوں تو نا خوش گوار واقعہ پیش آنے کے باوجود گھر کی فضا برہم نہیں ہوگی۔ گھر کے تمام لوگ حقیقت پسندی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کا استقبال کریں گے ۔ گھر کے لوگوں کی روش متقیانہ روش ہوگی اور گھر کا بڑا شخص صحیح رہنمائی کے ذریعہ ایک متقیانہ گھر کی امامت کر رہا ہو گا ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کر کسی سے ایک شکایت پیدا ہوئی اور گھر کا بڑا شخص اس سے پھر اٹھا تو وہ بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرے گا ۔ اس کی منفی باتوں سے لوگوں کے اندر چھپے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues