Al-Risala · January 1987 · page 10

یہ اسلام نہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۰

موجودہ قسم کی اشتعال انگیز کارروائی اپنے نفس کا اتباع ہے نہ کہ خدا اور رسول کا اتباع ۔ جب ہم اس اعتبار سے دور اول کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کی گستاخی کرنے والے غیر مسلموں کے خلاف کبھی بھی اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے کی یا کر رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے خلاف صحابہ کرام نے نہ جلوس نکالا ، نہ ان کے گھروں اور جائیدادوں کو جلایا ۔ اور نہ ان کے خلاف نعرہ بازی کا ہنگامہ کھڑا کیا ۔ اس کے بجائے جو کچھ کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعائیں کی گئیں ۔ اور دلیل کے ذریعہ ان کی بات کی تردید کی گئی ۔ اس سے آگے ان کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دیا گیا ۔

رسول اور اصحاب رسول کا یہ نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیں کیا کرنا ہے ۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے حق میں اصلاح اور ہدایت کی دعا کریں ۔ ان سے ملاقات کر کے پروقار طریقہ سے ان کی غلط فہمی کو دور کریں ۔ سنجیدہ اور علمی انداز میں وضاحتی مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائیں ۔ یہی واحد کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے ۔ اس کے سوا مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے نہ کہ خدا کی رحمت کو کھینچنے والا ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رحمت بنا کر بھیجا ہے نہ کہ جلانے اور پھونکنے والا بنا کر ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اس مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ان سے ایک عظیم نعمت کو چھین لیا ہے ۔ اور وہ داعیانہ کلام کی صلاحیت ہے ۔ داعی اپنی قوم کا ناصح ہوتا ہے ۔ داعیانہ کلام مخاطب کے لیے محبت اور خیر خواہی کے جذبہ سے نکلتا ہے ۔ مگر جب مسلمانوں کا حال یہ ہو کہ وہ بات بات پر بھڑک اٹھیں تو ان کا دل دوسری قوموں کے خلاف نفرت اور بیزاری کے جذبے سے بھر جائے گا ۔ ان کے اندر وہ معتدل نفسیات باقی ہی نہ رہے گی جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کسی کے سامنے سنجیدہ اور مدلل انداز میں خدا کے رسول کا پیغام پیش کر سکے ۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جشن رسالت کی دھوم کے باوجود تبلیغ رسالت کا کام بالکل ٹھپ پڑا ہوا ہے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ آپ کے خدائی پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچائے ۔ مگر پیغام رسالت کو دوسری قوموں تک پہنچانے کے لیے دوسری قوموں کی سچی خیر خواہی درکار ہے ۔ اور موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے منفی مزاج کے نتیجہ میں پہلے ہی اس کو کھو چکے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page