یہ اسلام نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۹
یہ اسلام نہیں
ایک انگریزی اخبار ( ۷ دسمبر ۱۹۸۶) نے ایک کہانی چھاپی۔ اس کا عنوان نقل کفر کفر نباشد یہ تھا : Mohammad the Idiot یہ عنوان بلاشبہ لغو ہے۔ مگر اس کے جواب میں مسلمانوں نے جو کچھ کیا وہ بھی یکساں طور پر لغو ہے۔ وہ اس مضمون کو دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے اخبار مذکور کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور اس کے گودام کو جلا ڈالا جس میں ایک کروڑ روپیہ کا کاغذ رکھا ہوا تھا۔ ان مسلمانوں نے اپنے اس عمل کو اسلامی جہاد کا نام دیا ہے۔ مگر یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اس قسم کا ہر فعل مسلمانوں کی قومی ادھم بازی ہے نہ کہ وہ مقدس عمل جس کو قرآن و حدیث میں جہاد فی سبیل اللہ کہا گیا ہے۔ مذکورہ اخبار نے جو بے ہودہ گوئی کی وہ اسلامی تاریخ میں کوئی نئی چیز نہیں ۔ موجودہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو امتحان کی آزادی عطا کی ہے۔ چنانچہ اس قسم کے واقعات عین اس وقت سے پیش آ رہے ہیں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس دنیا میں موجود تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ آپ نے جب عربوں کے سامنے اپنی پیغمبرانہ دعوت پیش کی تو انھوں نے آپ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔ انھوں نے آپ کو عملی طور پر ستانے کے علاوہ آپ پر طرح طرح کے برے القاب چسپاں کیے۔ ان میں سے چند القاب نعوذ باللہ یہ تھے :
متقول : بات بنانے والا ساحر : جادو گر مجنون : دیوانہ كذاب : بہت جھوٹ بولنے والا مذکورہ مسلمان اگر واقعی ”اسلامی جہاد کرنا چاہتے تھے تو ان کا فرض تھا کہ وہ سب سے پہلے قرآن اور حدیث اور سیرت کو دیکھ کر معلوم کرتے کہ اس طرح کی صورت حال جب دور اول میں پیش آئی تو خود رسول اور آپ کے اصحاب نے اس معاملہ میں کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ اور پھر وہ وہی کرتے جو رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ سے ثابت ہو رہا ہو۔ سیرت رسول اور اسوہ صحابہ سے بے نیاز ہو کر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues