خاتون اسلام از : مولانا وحیدالدین خاں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹
ہر واقعہ اس کو خدا سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔
اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو زندگی کے معرکوں میں صبر اور شکر کا جواب نہ پیش کر سکیں ۔ زندگی کے تجربات میں پڑنا ان کے لیے خدا سے دور کرنے کا سبب بن جائے۔ ایک شخص مسلمان ہے اور ایمانی جذبے کے تحت زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ مگر جب دنیا کے فتنوں میں سے کوئی فتنہ پیش آتا ہے تو وہ اس کو اپنی طرف بہا لے جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں میں کمی ہوتی ہے تو وہ مایوس ہو کر طرح طرح کے شک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عزت و مرتبہ کا کوئی دروازہ کھلتا ہے تو اس کی کشش اس کو جاہ پسند بنا دیتی ہے۔ وہ اپنی تمام دوڑ دھوپ کو انہیں سمتوں میں موڑ دیتا ہے جو اس کے مقام کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے والی ہوں۔ کسی کو دولت کا کوئی حصہ ہاتھ آجاتا ہے تو اس کی چمک دمک اس کو مبہوت کر دیتی ہے اور وہ دولت کمانے کی راہوں میں اس طرح گم ہو جاتا ہے گویا وہی اس کا دین و ایمان ہے۔
خاتون اسلام از : مولانا وحیدالدین خاں
اسلامی شریعت میں عورت کا مقام - اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے۔ عزت اور احترام کے جو احکام ایک صنف کے لئے ہیں وہی احکام دوسری صنف کے لئے بھی ہیں۔ دنیا کے حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت - زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں تا ہم فطری فرق کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے نہ کہ کیانیت کار کا اصول - (پیپر بیک ۳۰ روپیہ، صفحات ۱۹۲) 8-81-85063-81 ISBN مکتبہ الرساله سی-۲۹، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی-۱۳ فون : 611128, 697333
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues