خاتون اسلام از : مولانا وحیدالدین خاں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰
کامیابی کا راز
قال عبد اللہ بن جعفر یوصی ابنتہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے نکاح کے وقت اپنی عند زواجها : یا بنیة ، اياك والغيرة لڑکی کو نصیحت کی ۔ انھوں نے کہا کہ اسے میری فانہا مفتاح الطلاق - واياك والمعاتبة بیٹی ، تم غیرت اور نخوت سے بچو، کیونکہ وہ فانہا تورث الضغينة ۔ طلاق کا دروازہ کھولنے والی چیز ہے۔ اور تم غصہ اور ناراضگی سے بچو، کیوں کہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے ۔
یہ بہترین نصیحت ہے جو ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے وقت کر سکتا ہے۔ شادی کے بعد لڑکی ایک غیر شخص کے گھر جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ خونی رشتہ داروں کے درمیان رہ رہی تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں کے درمیان جاتی ہے جن سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ خونی رشتہ دار (باپ، ماں، بھائی، بہن) لڑکی کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنے میکے میں نخوت دکھا کر کبھی بے قدر نہیں ہوتی۔ وہ غصہ دکھائے تب بھی لوگ اس سے بیزار نہیں ہوتے۔ مگر سسرال کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہوتا ہے ۔
سسرال میں لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے وہ پیدائشی نرمی نہیں ہوتی جو میکے کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال میں اس کا ہر عمل ایک رد عمل پیدا کرتا ہے۔ میکے میں لوگ اس کی نخوت کو نظر انداز کر دیتے تھے، مگر سسرال میں اس کی نخوت کو لوگ اپنی یادوں میں رکھ لیتے ہیں۔ میکے میں لوگ اس کے غصہ کو بھلا دیتے تھے، مگر سسرال میں کوئی شخص اس کے غصہ کو بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایسی حالت میں سسرال میں نباہ کی واحد شرط یہ ہے کہ لڑکی اپنے مزاج کو نئے ماحول کے مطابق بنا کر رہے۔ وہ ایسے عمل سے بچے جو نا موافق رد عمل پیدا کرنے والا ہو۔ کوئی بات اپنی پسند کے خلاف ہو تو اس کو گوارا کرے۔ کسی بات سے اس کے دل کو رنج پہنچے تو اس کو دل ہی دل میں ختم کر دے۔ کسی سے امید کے خلاف سلوک کا تجربہ ہو تو اس کی اچھی توجیہہ کر کے اس کو دماغ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues