Al-Risala · March 1987 · page 24

ایک اعتراف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

ایک اعتراف

۱۹۷۶ میں لندن میں جشنِ اسلام (Festival of Islam) کے نام سے ایک تقریب منائی گئی تھی۔ اس موقع پر لندن کے مشہور اخبار ٹائمس (۲ اپریل ۱۹۷۶) نے اپنا ایک خصوصی نمبر شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا اسلامی دنیا (The World of Islam) ٹائمس کی اس خصوصی اشاعت میں ولفرڈ بلنٹ(Wilfred (Wilfred Blunt) کے قلم سے ایک مقالہ شائع ہوا تھا۔ اس مقالہ میں موصوف نے لکھا تھا کہ انسان کی پوری لمبی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ اچنبھے میں ڈالنے والا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ جیسا کہ غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کا پھیلاؤ۔ کون اندازہ کر سکتا تھا کہ درمیانی عمر کا ایک شخص جو کسی وقت مکہ کا تاجر اور تجارتی قافلہ کا سردار ہو، جس کو ۶۲۲ء میں اس کے وطن سے نکال دیا گیا ہو اور وہ مدینہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوا ہو، وہ ایک ایسے مذہب کی بنیاد رکھے گا جو اس کی موت کے ایک صدی کے اندر مہذب دنیا کے آدھے حصہ میں قائم ہو جائے گا۔ جو مغرب میں فرانس کے قلب تک پہنچ جائے گا اور مشرق میں وہ دریائے سندھ کو عبور کر کے چین کی سرحد تک جا پہنچے گا۔

ولفرڈ بلنٹ مزید لکھتے ہیں کہ فرض کرو کہ اسلام کا یہ سیلاب نہ آتا تو کیا ہوتا۔ مغرب میں سائنس کی ترقی کی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ رومی ہندسہ کا بے ڈھنگا پن تھا۔ عربی ہندسہ جو آٹھویں صدی عیسوی کے آخر میں ہندوستان سے بغداد پہنچ چکا تھا، اگر وہ جلد ہی مغربی یورپ پہنچتا اور مجموعی طور پر اختیار کر لیا جاتا تو وہ بہت سی سائنسی ترقی جس کو ہم اٹلی کی نشأۃ ثانیہ کے ساتھ منسوب کرتے ہیں، وہ کئی سو سال پہلے حاصل ہوجاتیں ۔

ولفرڈ بلنٹ (۱۹۲۲۔ ۱۸۴۰) اسلامی تہذیب سے بہت متاثر تھا۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہے اسلام کا مستقبل (The Future of Islam) یہ کتاب پہلی بار ۱۸۸۲ میں شائع ہوئی تھی۔ اس نے کئی مسلم ملکوں کا دورہ بھی کیا تھا۔ اگلے صفحے پر اس کے اصل الفاظ نقل کیے جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page