Al-Risala · March 1987 · page 23

خاتون اسلام از : مولانا وحیدالدین خاں

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳

ایک آیت

قرآن میں اہل نفاق کی ایک خصوصیت یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کا معاملہ کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے : اور لوگوں میں کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالاں کہ وہ بالکل ایمان والے نہیں ہیں۔ وہ فریب دیتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو۔ اور وہ اپنے آپ کے سوا کسی کو فریب نہیں دیتے ۔ لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ ( ومن الناس من يقول آمنا بالله وباليوم الآخر وما هم بمؤمنين - يخادعون الله والذين آمنوا وما يخدعون إلا أنفسهم وما يشعرون، بقره ٨-٩) اس آیت کی تفسیر ایک حدیث سے ہوتی ہے جس کو قرطبی نے اپنی تفسیر میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کو لا تخادع اللہ خانه من يخادع الله دھوکا نہ دو کیوں کہ جو اللہ کو دھوکا دینے کی يخدعه الله، ونفسه يخدع لو يشعر کوشش کرتا ہے تو اللہ اس کو دھوکا دیتا قالوا يا رسول الله وكيف يخادع الله ہے ۔ اور وہ شخص خود اپنے آپ کو دھوکا دے قال تعمل بما امرك الله به وتطلب رہا ہے اگر وہ جانے۔ ۔ لوگوں نے کہا اے خدا به عشیرہ ۔ کے رسول، کوئی شخص خدا کو کیسے دھوکا دیتا ہے۔ فرمایا : تم وہ عمل کرو جس کو کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے اور اس کے ذریعہ خدا کے سوا کسی اور چیز کی طلب رکھو۔

ایک آدمی بظاہر اسلامی کام اور دینی عمل میں مشغول نظر آتا ہے۔ مگر اس اسلامی کام اور اس دینی عمل میں وہ اس لیے مشغول ہے کہ اس کے ذریعہ اس کو شہرت و عزت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا شخص گویا خدا کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا اصل مقصود تو دنیوی منافع ہیں مگر بظاہر وہ اپنے آپ کو دین کے خادم اور اسلام کے مجاہد کے روپ میں پیش کر رہا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page