Al-Risala · March 1987 · page 26

سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶

سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط

جنیوا کی کانفرنس (۷-۹ دسمبر ۱۹۸۶) کے موقع پر میں نے جو انگریزی مقالہ پیش کیا ، منتظمین کی طرف سے اس کی فوٹو کاپی کر کے تمام لوگوں کے درمیان اس کو تقسیم کیا گیا۔ اس مقالہ کا عنوان تھا : Religious Liberty in Islam یہ تقریباً آدھ گھنٹہ کا مقالہ تھا۔ اس میں میں نے قرآن اور حدیث اور اسلامی تاریخ کے حوالوں سے دکھایا کہ اسلام اگرچہ اس کا قائل نہیں کہ سچائی کئی ہے یا کئی ہو سکتی ہے۔ اسلام کے نزدیک سچائی صرف ایک ہے۔ اس کے باوجود اسلام اس کا قائل نہیں کہ سچائی کو منوانے کے لیے جبر کیا جائے ۔ سچائی کو بزور منوانا سچائی کی توہین ہے۔ اس دنیا میں لین دین کا اصول رائج ہے۔ اس لیے اگر ہم اپنے لیے فکر کی آزادی چاہتے ہوں تو ہمیں دوسروں کو بھی فکر کی آزادی دینی ہوگی۔ دوسری بات یہ کہ سچائی وہ ہے جو آدمی کو بطور دریافت ملے اور دریافت کے طور پر سچائی کسی آدمی کو اسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ آزادانہ طور پر سوچے اور آزادانہ طور پر ایک نتیجہ تک پہنچے۔ مزید میں نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ اسلام ساتویں صدی میں آیا جب کہ عام طور پر ساری دنیا میں مذہبی جبر کا رواج تھا ۔ مگر اسلام نے زمانی رواج کے سراسر خلاف مذہبی آزادی کا اعلان کیا۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف تاریخی حوالے نقل کیے ۔ مثلاً ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ اسلام نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں اپنے ماتحت غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی مکمل آزادی دی ۔ یہ بات ساتویں صدی کی تاریخ میں انتہائی انوکھی تھی :

They were allowed the free and undisturbed exercise of their religion — so striking in the history of the seventh century. اس کانفرنس میں ہر مذہب کے لوگ شریک تھے۔ تاہم عیسائی حضرات کی تعداد زیادہ تھی جو امریکی اور یورپی علاقوں سے آئے تھے ۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے ۔ متعدد لوگ بڑے بڑے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page