سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷
اداروں کے ذمہ دارانہ مناصب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں سے اکثر کے ساتھ ذاتی ملاقاتیں رہیں۔ یہ ذاتی ملاقاتیں زیادہ تر کھانے اور ناشتہ کی میز پر ہوتی تھیں۔ ان کی اکثریت کا یہ حال تھا کہ جب وہ میرے بارہ میں معلوم کرتے کہ میں "اسلامک سنٹر" کا صدر ہوں تو وہ غیر معمولی دل چسپی کے ساتھ اسلام کے بارہ میں باتیں کرنے لگتے۔ بیشتر لوگوں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ہم اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اسلام کے بارہ میں ہم کو اپنی زبان میں کتا نہیں نہیں ملتیں ۔
ڈاکٹر گوربیری (Dr Claudio J. Guerrieri) ارجنٹینا سے آئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے حال میں عالمی مذاہب پر ۲۵ کتا بیں منگائی ہیں مگر ان میں ایک لفظ بھی اسلام پر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسلام کے بارہ میں اس بلیک آؤٹ کا کون ذمہ دار ہے۔ اس کانفرنس میں میں تنہا مسلمان تھا جو کسی ملک سے اسلام کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ اسی طرح شرکاء کا نفرنس میں ایک ہندو تھے ۔ ان کا نام ڈاکٹر موہن کانت گوتم تھا۔ ان کی پیدائش ہندوستان (کاس گنج) میں ہوئی۔ مگر پچھلے ۲۰ سال سے وہ باہر رہتے ہیں۔ آج کل وہ ندرلینڈ میں ساوتھ ایشین اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے مجھ سے گفتگو کے دوران کہا کہ اگر چہ میں ایک ہندو ہوں۔ مگر مجھے اسلام کے مطالعہ سے بہت دل چسپی ہے۔ انھوں نے اسلام پر چند کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے انھیں اسلامی مرکز کی چند مطبوعات پیش کیں ۔ بدھرم کے نمائندہ پھنتوگ ، ونگیال (لندن) تھے ۔ ان کو بھی انگریزی مطبوعات دی گئیں ۔
مسز سوسن ٹیلر (Dr Susan Taylor) ایک تعلیم یافتہ معمر خاتون تھیں ۔ وہ امریکہ (واشنگٹن ڈی سی) سے آئی تھیں ۔ وہ اگرچہ ایک عیسائی مذہبی ادارہ کی عہدیدار ہیں۔ تاہم انھوں نے اسلام کے مطالعہ کے لیے اپنی گہری دل چسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے بھی یہی شکایت کی کہ اسلام پر مطالعہ کے لیے انگریزی میں کتا بیں نہیں ملتیں ۔ ان کو بھی اسلامی مرکز کی چند انگریزی مطبوعات پیش کی گئیں ۔ اگلے صفحہ پر کانفرنس کے پروگرام میں باضابطہ طور پر حصہ لینے والوں کی فہرست کا عکس دیا جا رہا ہے۔ یہ فہرست خود کانفرنس کی طرف سے شائع کر کے تقسیم کی گئی تھی ۔ اس فہرست میں ڈاکٹر جوزف پیج کا نام اٹھارویں نمبر پر ہے، حالاں کہ وہ ڈبلو سی آرایل کے صدر ہیں جس کی طرف سے یہ کانفرنس کی گئی تھی ۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں اس قسم کی ترتیب نا ممکن ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues