Al-Risala · March 1987 · page 29

سویٹر لینڈ کا سفر دوسری قسط

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

تنظیم (WCRL) کے صدر ڈاکٹر جوزف یتیچ نے بتایا کہ پچھلے ایک سال (ستمبر ۱۹۸۵ء) سے ہم اس مشن کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ ہم نے اس دوران میں بہت کچھ کہا ہے اور شائع کیا ہے ۔ مگر ہم کو سب سے زیادہ خط اور تار اور ٹیلی فون جس چیز پر ملے وہ صرف ایک چھوٹا سا جملہ تھا۔ یہ جملہ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا :

Atheistic communism is the number one enemy of religious liberty. (بے خدا اشتراکیت مذہبی آزادی کی دشمن نمبر ایک ہے) یہ نفسیات تمام قوموں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے ، اور خود مسلمانوں میں بھی ۔ کسی دشمن کے خطرہ کی گھنٹی بجائے یہ تو سب سے زیادہ بھیڑ آپ کے گرد جمع ہو جائے گی ۔ اور جس پیغام میں اس قسم کے خارجی خطرے کی گھنٹی نہ بجائی جائے ، اس کو ہمیشہ بہت کم مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی لیڈر کی مقبولیت کا پیمانہ وہ بھیڑ نہیں ہے جو مذہبی خطرہ یا قومی خطرہ کا الارم بجا کر جمع کی گئی ہو ، اس کا پیمانہ صرف وہ مجمع ہے جو مثبت پیغام کے نتیجہ میں اس کے گرد جمع ہوا ہو۔ بار بار یہ منظر سامنے آیا ہے کہ " خطرہ " کی نفسیات کو جگانے کے نتیجہ میں ایک لیڈر کے گرد بھیڑ جمع ہوئی۔ مگر جیسے ہی اس نے انہیں کوئی ایسا پیغام دینا چاہا جس میں خود اپنے آپ کو بدلنے کا تقاضا ہو تو تمام بھیڑ اس طرح منتشر ہو جائے گی جیسے وہ کبھی جمع ہی نہیں ہوئی تھی۔

ایک امریکی مقرر ڈاکٹر ڈونال سِل(Dr (Dr Donal Sills) نے کہا کہ امریکہ کے چرچ اس وقت تجارت کا ذریعہ (American churches are a source of business) ہیں ۔ یہی بات نائیجیریا کے اینگلیکن چرچ کے ایک ذمہ دار آر کوبولا (Adepoju Akomolafe) نے بھی کہی۔ امریکہ کے مسیحی چرچ کے بارہ میں خود مسیحی مقررین کی زبان سے یہ بات سن کر تھوڑی دیر کے لیے مجھے تعجب ہوا۔ مگر پھر میں نے یہ سوچا کہ یہ تو وہی بات ہے جو آج تمام مذاہب کے لوگوں میں پائی جاتی ہے ، حتیٰ کہ خود مسلمانوں کے لیے بھی اب ان کا دین ایک تجارت بن گیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ کسی کی تجارت یہ ہے کہ وہ دین کے نام پر پیسہ حاصل کرے اور کسی کی تجارت یہ ہے کہ وہ دین کے نام پر شہرت اور قیادت کے مقام پر پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page