بھارت کی تعمیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲
بھارت کی تعمیر
پروفیسر ہیرن مکر جی ایک فریڈم فائٹر ہیں۔ وہ جواہر لَالَ نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) کے زمانہ میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے ۔ پروفیسر ہیرن مکر جی ایک بار پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آئے۔ اجلاس سے فارغ ہو کر جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان پر ایک تجربہ گزرا۔ کلکتہ واپس پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم ہند، جواہر لال نہرو کے نام ایک خط لکھا جس میں اس تجربہ کا ذکر تھا۔ ۔
پروفیسر مکر جی نے لکھا کہ میری ٹرین جب نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے بہت دور تک جھگی جھونپڑی کی قطاریں چلی جارہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے غریب ہندوستانی اگر مجھ سے پوچھیں کہ ملک کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ جواہر لال نہرو نے اس کے جواب میں پروفیسر مکر جی کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا : You are paying the price of being sensitive. تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو) راقم الحروف کو یہ پسند نہیں کہ ہم حساس نہ ہوں ۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم حساس ہوں تاکہ ہم تڑپیں ۔ تاکہ ہم ملک کے حالات کے بارہ میں زیادہ سنجیدہ ہوں ، تاکہ ہم اس کے متعلق زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچیں ، اور ملک کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کی فکر کریں ۔
آپ جانتے ہیں کہ نئے ہندوستان کا آغاز ۱۹۴۷ء سے ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے یہ ملک یورپی قوموں کے سیاسی اور اقتصادی استحصال کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ مہاتما گاندھی (۱۹۴۸-۱۸۶۹) نے ہندوستان کو سیاسی بنیاد (Political base) عطا کی۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) نے ہندوستان کے وزیر اعظم ہوئے اور انھوں نے ملک کے لیے صنعتی بنیاد (Industrial base) فراہم کی ۔
اس سے پہلے ہندوستان کی جو حالت تھی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حکومتی فیصلہ کی قوت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues