Al-Risala · January 1987 · page 13

بھارت کی تعمیر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳

ملکی باشندوں کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی ترقی کا کام بہت دیر سے شروع ہو سکا ہندوستان میں ریلوے کا آغاز برٹش دور میں ۱۸۵۳ میں ہوا ۔ اور بہت جلد سارے ملک میں ریلوے لائن کا جال بچھا دیا گیا ۔ مگر سڑکوں کی ترقی ۷۰ سال تک رکی رہی ۔ ملک میں سڑکوں کی تعمیر حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں : Little attention was paid to road development untill the 1920s, mainly because the government had previously focussed its attention on rail- ways (9/295). ۱۹۲۰ کے بعد کے سالوں سے پہلے روڈ کی ترقی پر بہت کم توجہ دی جا سکی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ برطانی حکومت نے اس سے پہلے اپنی ساری توجہ ریلوے پر لگا رکھی تھی ۔ برطانی حکومت ریل کی پٹریوں کو لوہے کی زنجیریں سمجھتی تھی ۔ اس کا خیال تھا کہ ان زنجیروں کے ذریعہ وہ ملک پر اپنے قبضہ کو زیادہ دیر تک باقی رکھ سکے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ریلوے لائنیں بچھانے پر خصوصی توجہ دی ۔ مگر سڑکیں بنانے پر وہ توجہ نہ دے سکی۔ ملک کو سیاسی غلامی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ سڑکوں کی تعمیر کے معاملہ میں وہ پیچھے ہو گیا جو کہ قومی ترقی کے لیے موجودہ زمانہ میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں ۔

دوسری مثال صنعت کی ہے ۔ ہندوستان میں اکثر معدنی ذخیرے (Mineral resources) افراط کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہاں صنعتی ایندھن (کوئلہ) بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کے لوہے (Iron-ore) کے ذخائر کا پا حصہ صرف ہندوستان کی زمین کے نیچے موجود ہے ۔ اس کے باوجود ملک کی آزادی سے پہلے اس کی صنعتی ترقی ممکن نہ ہو سکی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہاں ایک بیرونی قوم کا قبضہ تھا ۔ وہ ہندوستان کو اپنی صنعتی سامانٹوں کی منڈی بنائے ہوئے تھے ۔ ۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد یہاں باہر کا سامان در آمد کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں ۔ اور ملکی صنعت کو ترقی کے مواقع دیے گئے ۔ چنانچہ ہندوستان تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھا ۔ یہاں تک کہ اب وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی اور صنعتی اعتبار سے ملک اب ترقی کے اگلے اسٹیج پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues

Printed page