Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
لوگ رات دن ٹیلی فون استعمال کرتے ہیں مگر شاید ہی اس زمین پر وہ انسان موجود ہو جس کا یہ حال ہو کہ جب وہ ٹیلی فون کا نمبر ڈائل کرے اور دور دراز مقام کے آدمی سے اس کی اس طرح بات ہونے لگے جیسے کہ وہ اس کے بالکل قریب موجود ہے تو احساسِ نعمت سے اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ انسان سے ربط قائم کرتے ہوئے اس کی روح خدا سے مربوط ہو جائے ۔
جنیوا کی ملاقاتوں میں سے ایک یادگار ملاقات ڈاکٹر عبد الحکیم طيبي کی تھی۔ وہ ایک افغانی ہیں ۔ افغانستان میں روس کے داخلہ سے پہلے وہ وہاں اعلیٰ سرکاری عہدہ پر تھے۔ وہ افغانستان کی طرف سے تقریباً دس ملکوں میں سفیر رہ چکے ہیں ۔ آخر وقت میں وہ اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمائندہ تھے اور نیو یارک میں مقیم تھے ۔ افغانستان میں جب انقلاب آیا اور روسی فوجیں وہاں داخل ہو گئیں تو ، ۱۹ میں انھوں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور جنیوا چلے آئے ۔ یہاں انھوں نے ایک کافی بڑا ادارہ قائم کیا ہے ۔ وہ افغانستان کی تحریک مجاہدین کے ممتاز نمائندوں میں سے ہیں اور جنیوا سے ایک ماہانہ مجلہ نکالتے ہیں جس کا نام جمال الدین افغانی کے قدیم مجلہ کے نام پر " العروة الوثقیٰ " رکھا گیا ہے۔ سید جمال الدین افغانی ( ۱۸۹۲ ء - ۱۸۳۸ء) نے 1884 میں پیرس سے ایک عربی ماہنامہ العروۃ الوثقیٰ کے نام سے نکالا تھا۔ مگر چند شماروں کے بعد وہ بند ہوگیا ۔ اب ڈاکٹر طیبی اسی نام سے عربی اور انگریزی میں ایک ماہنامہ جنیوا سے نکالتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سی کتابیں عربی اور انگریزی میں شائع کی ہیں :
Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.
ڈاکٹر طیبی نے اصرار کیا کہ میں جنیوا میں مزید قیام کروں اور ان کے " گیسٹ ہاؤس " میں ٹھہروں ۔ اس طرح مجھے مزید تفصیل سے سوئزر لینڈ کو جاننے کا موقع مل جاتا نیز دعوتی کام کے مزید مواقع ملتے۔ مگر میرے لیے زیادہ ٹھہرنے کا موقع نہ تھا۔ اس لیے میں ان کی پیش کش کو قبول نہ کر سکا۔ ڈاکٹر طیبی کی لائبریری کے لیے میں نے اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات پیش کیں ۔ ان میں " تبلیغ موومنٹ" کا ایک نسخہ بھی شامل تھا ۔
یہاں کی ملاقاتوں میں سے ایک دل چپ ملاقات وہ تھی جو جسٹر مک کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues