Al-Risala · March 1987 · page 35

Yahya Basalamah, Grange-Levrier 2,

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵

ہو سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مسلمان " خیر امت " اسی اعتبار سے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی پیغام بری کریں ۔ اس لیے ان کی ترقی اور سربلندی تمام تر اسی عمل پر موقوف ہے ۔ اس عمل کو اختیار کر کے وہ " سب سے اعلیٰ " قوم بن سکتے ہیں ، اور اگر وہ اس عمل کو چھوڑ دیں تو وہ سب سے بری قوم بن جائیں گے ۔ اس کے بعد ان پر یرمیاہ نبی کے وہ الفاظ صادق آئیں گے جو بائبل میں اس طرح نقل کیے گیے ہیں :

Reprobate silver shall men call them, because the Lord جنیوا میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب رہتے ہیں ۔ انھوں نے میری عربی کتاب (الاسلام یتحدی) پڑھی تھی اور اس سلسلہ میں ان کا ایک خط مجھے دہلی کے پتہ پر ملا تھا۔ یہاں ان سے ملاقات کا خیال ہوا۔ مگر ان کا ٹیلی فون نمبر میرے پاس موجود نہ تھا۔ کمرہ میں رکھی ہوئی ٹیلی فون ڈائرکٹری پر نظر پڑی تو میں نے سوچا کہ شاید اس میں ان کا نام ہو۔ ڈائر کٹری دیکھنا شروع کیا تو اس میں ان کا نام موجود تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق میں نے اپنے کمرہ سے ٹیلی فون کیا تو وہ مل گیے ۔ اولاً ٹیلی فون پر گفت گو ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہوٹل تشریف لائے تو زیادہ تفصیل کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :

Yahya Basalamah, Grange-Levrier 2,

ان کو الرسالہ (انگریزی) اور پیغمبر انقلاب (انگریزی) وغیرہ کتا بیں دی گئیں ۔ وہ تبلیغی جماعت سے واقف تھے ۔ مگر انھیں تبلیغی جماعت پر بعض پہلوؤں سے اعتراض تھا۔ میرے پاس تبلیغی تحریک کا انگریزی ترجمہ تبلیغ موومنٹ (Tabligh Movement) موجود تھا، وہ میں نے انھیں دیا۔ عربی ان کی مادری زبان ہے۔ مگر وہ انگریزی زبان سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے ہیں ۔

جناب یحییٰ باسلامہ سے یہ ملاقات ٹیلی فون کے ذریعہ ممکن ہوئی ۔ ان کے علاوہ جنیوا میں مقیم کئی اور صاحبان سے ملاقات کی صورت بھی ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پیدا ہوئی۔ ٹیلی فون بھی کیسی عجیب نعمت ہے ۔ حسب ذیل تین نمبروں پر بٹن دبا کر میں ایک منٹ کے اندر دہلی سے بات کر سکتا تھا : گر موجودہ زمانہ میں کثرت استعمال نے اس نعمت کی حیثیت پر غفلت کا پردہ ڈال دیا ہے ۔ بے شمار

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page