Al-Risala · March 1987 · page 38

Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸

کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں کچھ لوگ تھے جن کو حنفاء کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب کے جاہلی دین پر مطمئن نہ تھے۔ ان کی فطرت سچے دین کی تلاش میں تھی ۔ زید بن عمرو یہ کہتے ہوئے مر گئے کہ خدایا، اگر میں جانتا کہ تیری پسندیدہ عبادت کیا ہے تو اسی طرح میں تیری عبادت کرتا، مگر میں اس کو نہیں جانتا۔ ایک مرتبہ اس طرح کے کچھ لوگ جمع ہوئے ۔ انھوں نے آپس میں کہا: جان لو کہ خدا کی قسم ، تمہاری قوم کسی چیز پر نہیں ہے۔ انھوں نے دینِ ابراہیم کو بگاڑ دیا ہے۔ پس نکلو اور سچے دین کو تلاش کرو۔ چنانچہ وہ لوگ مختلف ملکوں کی طرف نکل پڑے (سیرۃ ابن ہشام سیرۃ ابن کثیر، جلد اول)

جینیوا کے مذکورہ تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ عرب کے حنفاءکی طرح دورِ جدید میں دوبارہ حنفاء کی ایک نسل پیدا ہوگئی ہے جو زبان حال سے کہہ رہی ہے کہ خدایا، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح میں تیری عبادت کروں ۔ اگر میں جانتا تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جدید انسان کی رہنمائی کا انتظام فرمائے ، اور بلاشبہ وہی انتظام فرمانے والا ہے ۔ اس دوران میری ملاقات ایک امریکی سیاح سے ہوئی ، وہ پروٹسٹنٹ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان سے میں نے پوچھا کہ آپ دنیا کے بہت سے ملکوں میں گیے ہیں ، آپ کو سب سے زیادہ کون سا ملک پسند آیا ۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ مجھ کو سب سے زیادہ پسند آیا ۔ بے حد صاف ، بے حد مستعد (Very neat, very efficient) پھر میں نے انڈیا کے بارے میں پوچھا ۔ انھوں نے ہنس کر کہا کہ میں نے انڈیا کا سفر کیا ہے ۔ انڈیا کی بہت سی چیزیں مجھے پسند ہیں۔ مگر وہاں بیوروکریسی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں ملے گی ۔ انھوں نے کہا کہ سوئزرلینڈ میں بھی قواعد و ضوابط بہت زیادہ ہیں ۔ مگر سوئزرلینڈ کے کسی سرکاری دفتر میں آپ ایک کام کے لیے جائیں تو ایک آدمی کی میز پر پہنچ کر آپ کا سارا کام ۱۰ منٹ میں پورا ہو جائے گا ۔ جب کہ انڈیا میں میں دو بارگیا ہوں ۔ وہاں کے کسی سرکاری دفتر میں جایئے تو ہر آدمی آپ کو دوسرے آدمی کے پاس بھیجے گا۔ آپ ایک آدمی سے دوسرے آدمی اور دوسرے آدمی سے تیسرے آدمی کے پاس جاتے رہیں گے پھر بھی یقینی نہیں ہے کہ آپ کا کام آپ کی مرضی کے مطابق ہو جائے ۔

جینیوا ایک بے حد صاف ستھرا شہر ہے۔ یہاں کے بارے میں ایک دل چسپ لطیفہ معلوم ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page