Al-Risala · March 1987 · page 39

Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹

ایک صاحب ڈپلومیٹ تھے وہ اپنے خاندان کے ساتھ یہاں شہر کے باہر پکنک کے لیے گیے۔ وہاں ان لوگوں نے کچھ کھایا پیا اور اس کے بعد ڈبہ اور کاغذ کی قسم کی بچی ہوئی چیزیں چھوڑ کر قریب کی کسی جگہ ٹہلنے چلے گیے۔ البتہ ان کی کار وں پاس کھڑی ہوئی تھی جس پر ڈپلومیٹک نشان لگا ہوا تھا ۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ لوگ ٹہل کر اپنے مقام پر دوبارہ واپس آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کی کار کی ونڈ اسکرین پر ایک کاغذ چپکا ہوا ہے جس کے اوپر یہ الفاظ تحریر ہیں :

۹ دسمبر کو دو پہر بعد جنیوا شہر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک مقامی گائیڈ کی رہنمائی میں ہم چند آدمی نکلے۔ گاڑی ہم کو سارے شہر میں گھماتی رہی۔ ایک مقام پر اتر کر وہاں کا بڑا چرچ دیکھا۔ جنیوا اگر چہ نسبتاً چھوٹا شہر ہے۔ مگر وہ غیر معمولی طور پر صاف اور خوبصورت ہے۔ اگر چہ شہر کا پرانا حصہ اتنا صاف نظر نہیں آیا جتنا اس کا نیا حصہ صاف تھا۔ تاہم دونوں میں فرق بہت کم تھا۔ ایک مقام پر مسجد بھی دیکھی۔ یہ مسجد کافی وسیع ہے اور جدید انداز میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا افتتاح حال ہی میں شاہ فہد نے کیا ہے۔ یہ خوبصورت مسجد جنیوا کے معیار کے مطابق بنائی گئی ہے۔ اور شہر کے مرکزی علاقہ میں واقع ہے۔

جنیوا میں میں نے اپنے ہوٹل کے کمرہ سے کچھ مقامی ٹیلی فون کیے تھے۔ بظاہر اس ٹیلی فون کا علم یا تو مجھے کوستھا یا شہر کے اس آدمی کو جس سے میں نے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ مگر ہوٹل سے روانگی کے وقت جب میں ہوٹل کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے اس کے دفتر میں گیا تو وہاں ٹیلی فون کی تعداد اور اس کی رقم نہایت صحت کے ساتھ ایک کاغذ پر درج شدہ موجود تھی۔ یہ کمپیوٹر کا کرشمہ ہے۔ بڑے ہوٹلوں میں ہر کمرہ کمپیوٹر سے مربوط رہتا ہے اور کمپیوٹر آٹومیٹک طور پر ہر چیز کو ریکارڈ کرتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی ایک عمل کرتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی اور نہیں جو اس کے عمل کو جانے۔ مگر خدا کے مخفی فرشتے ہر جگہ تیسرے فریق کی حیثیت سے موجود ہیں اور اس کے ہر قول و عمل کو نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ آدمی جیسے ہی موجودہ دنیا کو چھوڑے گا، خدا کے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page