Al-Risala · March 1987 · page 41

Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱

نے اس کو اپنا سیاسی مرکز بنایا۔ موجودہ زمانہ میں بین اقوامی تجارتی نمائشوں کی وجہ سے فرینکفرٹ نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران ۱۹۴۴ء میں اس پر زبردست بمباری ہوئی۔ اس کے نتیجہ میں فرینکفرٹ بالکل تباہ ہوگیا۔ مگر اس بربادی میں ترقی کا نیا امکان نکل آیا۔ اس نے جرمنوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے قدیم شہر کو دوبارہ جدید طرز پر آباد کریں۔ موجودہ منظم اور پر رونق شہر جنگ کے بعد اس کے کھنڈروں سے برآمد ہوا ہے۔ مشہور جرمن شاعر گوئٹے(Goethe) (Goethe) فرینکفرٹ میں ہی ۲۸ اگست ۱۷۴۹ء کو پیدا ہوا تھا۔ اس کا پیدائشی مکان تاریخی یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا تھا۔ مگر وہ بھی دوسری عالمی جنگ میں جل کر تباہ ہو گیا۔ جرمنوں نے اس کو دوبارہ اس کے سابقہ نمونہ پر بنا دیا ہے ۔

فرینکفرٹ میں جرمنی کا سب سے بڑا ائیر پورٹ ہے ۔ لندن اور پیرس کے بعد فرینکفرٹ کو یورپ میں تیسرے سب سے بڑے ائیر پورٹ کی حیثیت حاصل ہے ۔ سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ مسافر یہاں کے ائیر پورٹ سے گزرتے ہیں۔ فرینکفرٹ میں نوے ہزار سے زیادہ بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے لوگ آباد ہیں۔ ان میں تقریبا ۱۶ فی صد ترک ہیں۔

فرینکفرٹ سے دہلی کے لیے لفتھانسا کی فلائٹ نمبر 666 کے ذریعہ سفر ہوا۔ یہ آٹھ گھنٹہ کی طویل پرواز تھی تاہم سفر با آسانی طے ہوگیا۔ ہندوستان کے اندر انڈین ایئر لائنز سے سفر کرتے ہوئے کئی بار میرے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ائیر پورٹ پر پہونچ کر معلوم ہوا کہ فلائٹ روک دی گئی ہے۔ کیوں کہ آگے جس ہوائی اڈہ پر اس کو اترنا ہے وہاں کہر کی وجہ سے رویت (Visibility) کم ہے ۔ مغربی ملکوں میں اگر یہ چیز رکاوٹ بنے تو وہاں روزانہ ہی فلائٹ روکی جاتی رہیں۔ کیوں کہ وہاں تو اکثر فضا میں کہر چھایا ہوا ہوتا ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں رڈار (Radar) اور کمپیوٹر کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کر لیا گیا ہے۔ ہے۔ جنیوا اور فرینکفرٹ دونوں جگہ ایسا ہوا کہ ہمارا جہاز وہاں پہونچا تو فضا کے اوپر گہر ا کہر چھایا ہوا تھا۔ مگر جہاز کو لینڈ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی ۔

اس مسئلہ کا حل اس نظام کے ذریعہ نکال لیا گیا ہے۔ جس کو آج کل فی الفور نظام

‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues

Printed page