Dr Abdul Hakim Tabibi, 81, Rue De Lyon, Ch.
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰
ملکوتی کمپیوٹر اس کی مکمل چارج شیٹ اس کے سامنے رکھ دیں گے۔
مغربی دنیا میں شراب اس قدر عام ہے کہ عملاً شراب اور پانی میں کوئی فرق باقی نہیں۔ میرے ہوٹل کے کمرے میں ایک چھوٹی الماری تھی جس کے اوپر لکھا ہوا تھا (Mini Bar) میں نے اس کو کھولا تو الماری کے تمام خانے مختلف قسم کے شراب کی بوتلوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ جدید میڈیکل سائنس نے شراب کا مضر ہونا ثابت کر دیا ہے۔ مگر جو چیز انسان کی عادت بن جائے، اس کو چھوڑنا انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے ۔
۱۰ دسمبر کی صبح کو جنیوا سے واپسی ہوئی۔ جنیوا کا ہوائی اڈہ بے حد صاف اور منظم تھا۔ ٹائلیٹ سے لے کر نشانات راہ تک ہر چیز اتنی نفیس حالت میں تھی جو مجھے کسی اور ہوائی اڈے پر نظر نہیں آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کوئی استعمالی ایرپورٹ نہیں ہے بلکہ نمونہ کا ایرپورٹ ہے جو بنا کر نمائش کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔ ہندوستان کے مقابلہ میں سوئزرلینڈ کے وسائل بہت کم ہیں۔ مگر محدود وسائل کے دانش مندانہ استعمال نے اس کو ہندوستان سے زیادہ خوبصورت ملک بنا دیا ہے ۔
دہلی کا جہاز پکڑنے کے لیے ہمیں فرینکفرٹ آنا تھا۔ جنیوا سے فرینکفرٹ کا سفر لفتھانزا کی فلائٹ نمبر 249 کے ذریعہ ہوا۔ یہ جرمن کمپنی کا جہاز تھا اور جرمنی کی ترقی کا پوری طرح نمائندہ تھا۔ اس وقت فضا میں گہرا با دل اور کہر چھایا ہوا تھا۔ آگے کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اس کے باوجود جہاز نے اپنا سفر اس طرح طے کیا جیسے اس کے پائلٹ کو سب کچھ دکھائی دے رہا ہو ۔ اس قسم کا سفر موجودہ زمانہ میں وائرلیس کی ترقی کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ ہوائی اڈہ پر خاص طرح کے رڈار ہوتے ہیں جو مسلسل نا قابل مشاہدہ لہریں پھینکتے رہتے ہیں۔ یہ لہریں ہوائی جہاز سے ٹکراتی ہیں اور اس کی اس طرح رہنمائی کرتی ہیں جیسے کوئی آنکھ والا کسی اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اس کا سفر طے کرا رہا ہو ۔ مادی اعتبار سے آج کا انسان اندھیرے میں سفر کرنے کے قابل ہو گیا ہے ، مگر روحانی اعتبار سے وہ اجالے میں سفر کرنے کے قابل بھی نہ ہوسکا ۔ فرینکفرٹ مغربی جرمنی کا ایک اہم صنعتی شہر ہے ۔ اس کو رومیوں نے پہلی صدی قبل مسیح میں آباد کیا تھا ۔ تا ہم اس کو زیادہ شہرت نویں صدی عیسوی میں حاصل ہوئی جب کہ جرمن بادشاہوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues