سیکریٹری اسلامی مرکز
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۴۳
میں نے سوچا کہ مغرب اور ہندوستان کے درمیان یہ فرق ہے کہ مغرب کی مثال زندہ جسم کی ہے اور ہندوستان کی مثال مردہ جسم کی ۔ ہندوستان گویا جگساپزل کے ٹکڑوں کے ذریعہ بننے والا جسم ہے۔ زندہ جسم ایک مربوط کل ہوتا ہے ۔ اس کا ہر حصہ اس طرح عمل کرتا ہے کہ وہ دوسرے کے حصہ کا کام بھی کر سکے ۔ اس کے برعکس ہندوستان کے افراد جگسا پزل کے الگ الگ ٹکڑوں کی مانند ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو صرف اپنی خبر ہے، کسی کو بھی نہ تو دوسرے کے وجود کی خبر ہے اور نہ وہ اس کے سلسلہ میں اپنی کوئی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے مغرب کے عام انسان کی زندگی کو عافیت کی زندگی بنا دیا ہے اور ہندوستان کے عام انسان کی زندگی کو بے عافیت کی زندگی۔ اس سفر میں مجھے مغرب کے تین بڑے مراکز میں جانے کا اتفاق ہوا۔ لندن (انگلینڈ) جنیوا (سوئزرلینڈ) اور فرینکفرٹ (جرمنی) سفر کے خاتمہ پر جنیوا سے میں ۱۰ دسمبر ۱۹۸۶ء کو صبح سات بجے روانہ ہوا۔ واپسی کے سفر میں مجموعی طور پر تقریباً ۱۵ گھنٹے لگے۔ اس لحاظ سے مجھے اچھے رات تک دہلی پہونچ جانا چاہئے تھا۔ مگر میں دہلی پہونچا تو یہاں کی گھڑیوں میں رات کے ۲۷ بج رہے تھے۔ یہ اس لیے ہوا کہ ہندوستان اور سوئزرلینڈ کے وقت میں ساڑھے چار گھنٹہ کا فرق ہے ۔
اعلان
الرساله یا الرساله کیسٹ یا الرساله کی مطبوعات کے سلسلہ میں ہم نے کسی کو پیشگی رقم وصول کرنے کا مجاز نہیں بنایا ہے ۔ اس لیے کوئی صاحب کسی شخص کو پیشگی رقم ادا نہ کریں ۔ رقم کے سلسلہ میں براہِ راست مرکز دہلی سے رجوع فرمائیں ۔
سیکریٹری اسلامی مرکز
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues