لوگ چندہ نہیں دیں گے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴
لوگ چندہ نہیں دیں گے
پھلواری شریف کے چند نوجوان جلسہ سیرت کا پروگرام بنا رہے تھے ، ان کا جذبہ یہ تھا کہ پھلواری شریف ایک تاریخی بستی ہے ، لہٰذا جلسہ بھی تاریخی نوعیت کا ہونا چاہیے ۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر لکھتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کتنا روپیہ خرچ کرو گے ، جواب ملا کہ تقریباً پانچ ہزار روپیہ چندہ ہو جائے گا ۔ میں نے کہا بلا شبہ ہمارے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت ہیں۔ ان کی محبت ہماری سب سے قیمتی متاع ہے۔ لیکن ان کی یاد کو تازہ رکھنے ، ان کے اسوہ حسنہ کو عام کرنے کے لیے جلسہ ہی کیا ضروری ہے، پھلواری شریف میں کوئی اچھی لائبریری نہیں ، اتنی رقم سے ایک اچھی لائبریری کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے جس میں سیرت پر اعلیٰ درجہ کا لٹریچر ہو اور اسی لائبریری میں تعلیم بالغان کا ایک مرکز بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ جلسہ کی تقریر ہوا میں تحلیل ہو جائے گی ، لائبریری کا فیض پورے سال بھر لوگوں کو ہو پہنچتار ہے گا۔ نوجوان میری بات کے قائل ہو گئے ، تاہم وہ اپنے پروگرام کو بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ انھوں نے کہا " لیکن لائبریری کے لیے لوگ چندہ نہیں دیں گے ، جب کہ میلاد النبی کے جلسہ کے لیے آسانی سے رقم فراہم ہو جائے گی" (نقیب، پٹنہ ، ۱۶ جنوری ۱۹۷۸ء) اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ لوگ چندہ نہیں دیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ لوگ چونکہ اس کے لیے چندہ نہیں دیں گے اس لیے ہمیں وہی کام کرنا ہے جس میں لوگ چندہ دیں۔ یہ چھوٹا سا واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی وجہ کیا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں کام کرنے کے لیے اٹھتے ہیں وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انھیں کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں جن میں چندہ زیادہ جمع ہوتا ہو ، جن میں شہرت زیادہ ملتی ہو ، جن میں عوام کی بھیڑ زیادہ اکٹھا ہوتی ہو ، جن میں فوراً کے فوراً لیڈری حاصل ہو جائے۔ عوام کے اس مزاج کو بدلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ان کے رہنما اپنا مزاج بدلیں۔ وہ ایسے کاموں میں طاقت لگائیں جن میں "چندہ" نہیں ملتا۔ ایک نسل جب اس طرح قربانی دے گی ، اس کے بعد ہی وہ وقت آئے گا جب کہ اگلی نسل اس کا پھل پاسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues