لوگ چندہ نہیں دیں گے
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
خبرنامہ اسلامی مرکز - ۲۸ -
صدر اسلامی مرکز نے ورلڈ کونسل آف ریلیجس لبرٹی نیو یارک) کی دعوت پر دسمبر ۱۹۸۶ء میں سوئزرلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس سفر کی روداد کی پہلی قسط فروری ۱۹۸۶ء کے شمارہ میں چھپ چکی ہے۔ اس سفر کی دوسری اور آخری قسط زیر نظر شمارہ میں دی جارہی ہے۔ صدیقی ٹرسٹ (کراچی) الرسالہ کے مختلف مقالات کو پمفلٹ کی صورت میں چھاپ کر مفت تقسیم کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کے شائع کردہ کئی پمفلٹ ہمارے دفتر میں موصول ہو چکے ہیں۔
۱۰ جنوری ۱۹۸۷ء کو گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں تعلیم یافتہ اصحاب کا ایک اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک تقریر کی۔ اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا کہ مسلمانوں کے کرنے کا اصل کام کیا ہے۔
"بابری مسجد ایکشن کمیٹی " نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ۲۶ جنوری ۱۹۸۷ء کو ریپبلک ڈے کا بائیکاٹ کریں اور اس طرح بابری مسجد (ایودھیا) کے معاملہ میں حکومت کے خلاف اپنی ناراضی کا اظہار کریں، یہ ایک غیر دانش مندانہ فیصلہ تھا۔ چنانچہ مختلف سنجیدہ افراد نے اس کے خلاف بیانات دیئے۔ صدر اسلامی مرکز نے بھی اس سلسلہ میں ایک اختلافی بیان دیا جو مختلف اخبارات ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، اسٹیٹمین وغیرہ) میں شائع ہوا اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی نشر ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اصل اشو سے اتفاق کرتے ہوئے موجودہ طریق کار کو غلط قرار دیا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کو اپنے موقف کی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے ۲۴ جنوری ۱۹۸۷ء کی شام کو اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
اسلامی مرکز کے پیغام کو اللہ تعالیٰ بے شمار طریقوں سے پھیلا رہے ہیں۔ مثلاً ڈیرہ اسماعیل خاں ، صوبہ سرحد سے جناب فضل مسعود خاں کا خط (۱۰ نومبر ۱۹۸۶ء) ہم کو ملا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ "چند مہینے پہلے میں نے مولانا وحید الدین صاحب کی کتاب (مذہب اور جدید چیلنج) پڑھی جو مجھے بے حد پسند آئی۔ اس کے بعد ابھی نومبر ۱۹۸۶ء کے پہلے ہفتہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1987 All issues