دو نمونے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲
دو نمونے
یہ دہلی کا واقعہ ہے ۔ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر میں مسجد کی سیڑھیوں سے اتر رہا تھا کہ ایک صاحب بول اٹھے۔ وہ بھی میری طرح نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکل رہے تھے : ” آپ نے دیکھا نہیں اس آدمی کو “ اور پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر کہنا شروع کیا ” نماز پڑھ رہا تھا اور کہنیاں یہاں تک کھلی ہوئی تھیں۔ شیطان بھی خوش اور رحمان بھی خوش ۔ اللہ بچائے ایسے نمازیوں سے ۔ “ وہ کہہ رہے تھے اور حال یہ تھا کہ نفرت اور حقارت ان کے لفظ لفظ سے ٹپک رہی تھی۔
میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا کی مسجد سے تواضع کے بجائے کبر کا سبق لے کر نکلتے ہیں۔ جن کو کہنیاں کھلنے کا مسئلہ معلوم ہے، مگر یہ مسئلہ ان کو معلوم نہیں کہ مسلمان پر مسلمان کا احترام فرض ہے۔ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ، اور اس کا ذکر نفرت اور حقارت کے ساتھ کرے ۔
یہ تو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا طریقہ ہے۔ اب دیکھئے کہ اس طرح کے معاملات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا۔
صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ایک مسلمان کا واقعہ نقل ہوا ہے ۔ وہ نومسلم تھے اور ابھی نماز کے آداب سے پوری طرح واقف نہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد نبوی میں نماز با جماعت میں شریک ہوا۔ اور کسی وجہ سے نماز کے درمیان کچھ بول پڑا۔ نمازیوں نے مجھ کو ترچھی نظر سے دیکھنا شروع کیا گویا کہ میں نے بہت غلط کام کیا ہے۔ کسی نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر مجھ کو چپ کرنا چاہا۔ اس کے بعد جب نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرمی کے ساتھ مجھ سے مخاطب ہوئے۔ مذکورہ راوی اس کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
فوالله ما رأيت أَحْسَنَ منه مُعلّماً قبله خدا کی قسم ، آپ سے زیادہ اچھا معلم میں نے نہیں دیکھا۔ او بعدہ۔ ما قهرنی وما شتمتی و قال نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد۔ آپ نے مجھ کو نہ جھڑکا انما المساجد لذكر الله - لا يصلح فيها من اور نہ برا کہا۔ آپ نے صرف یہ فرمایا کہ مسجدیں اللہ کی یاد كلام الناس کے لیے ہیں مسجدوں میں انسانی گفتگو مناسب نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues