Al-Risala · April 1987 · page 3

دو نمونے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳

عبرت ناک

مسلمان اسپین میں ٩٢ھ میں داخل ہوئے اور وہاں حکومت قائم کی۔ آٹھ سو سال تک با اقتدار رہنے کے بعد ، ۸۹۷ ھ میں وہاں سے ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس لمبی مدت کا بڑا حصہ عیسائی طاقتوں سے لڑنے میں گزرا۔ آخری دور میں مسلمانوں کی حکومت غرناطہ کے محدود علاقہ میں رہ گئی تھی۔ اور اسپین کے وسیع حصہ پر فرڈیننڈ دوم (۱۵۱۶- ۱۴۵۲۷ء) کی حکومت قائم تھی ۔ ۸۹۰ھ میں سلطان ابو الحسن غرناطہ کے تخت پر بیٹھا۔ اس وقت سلطنت غرناطہ کا رقبہ کم ہو کر صرف چار ہزار مربع میل باقی رہ گیا تھا۔ جب کہ شاہ فرڈیننڈ کی حکومت کا رقبہ تقریباً سوا لاکھ مربع میل تک پھیلا ہوا تھا۔ فرڈیننڈ نے مطالبہ کیا کہ سلطان ابو الحسن اس کو خراج دینا منظور کرے ۔ سلطان ابو الحسن نہایت بہادر آدمی تھا۔ اس نے عیسائی بادشاہ کو جواب میں لکھا کہ : غرناطہ کے دارالضرب میں اب سونے چاندی کے سکے ڈھالنے کے بجائے لوہے کی تلواریں تیار ہو رہی ہیں تاکہ تم عیسائیوں کی گردنیں ماری جائیں ! اس کے بعد دونوں بادشاہوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ سلطان ابو الحسن نے ان جنگوں میں بار بار شاہ فرڈیننڈ کو شکست دی ۔ تاہم آخری فتح فرڈیننڈ کو ہوئی ۔ اس کا سب سے بڑا سبب خود سلطان ابو الحسن کا بیٹا ابو عبد اللہ محمد تھا ۔ ۲۷ جمادی الاول ۸۸۸ھ کو لوشا کے میدان میں سلطان ابو الحسن نے فرڈیننڈ کی فوجوں کو زبردست شکست دی ۔ مگر جب وہ دشمن کو شکست دے کر واپس ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے ابو عبد اللہ محمد نے غرناطہ پر قبضہ کر کے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس کے بعد سلطان اور باغی شہزادے میں جنگ ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا کہ ۲ جنوری ۱۴۹۲ء ( ۸۹۷ھ ) کو عیسائی بادشاہ نے آخری طور پر سلطنت غرناطہ پر قبضہ کر لیا ۔

مسلمانوں کو ماضی میں جتنی شکستیں ہوئی ہیں ، سب آپس کے اختلافات کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔ مگر تاریخ اسلام کا یہی وہ سب سے بڑا واقعہ ہے جو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو سب سے کم معلوم ہے ۔ ماضی کی طرح آج بھی وہ اس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں جیسے کہ انھوں نے اپنے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page