علم کی قیمت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۵
علم کی قیمت
جناب عبدالرحمن انتولے (بیرسٹر ایٹ لا، اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹر) نے ۵ فروری ۱۹۸۶ کی ملاقات میں ایک واقعہ بتایا۔ غالباً ۱۹۴۵ء کی بات ہے۔ اس وقت وہ لندن کی کونسل آف لیگل ایجوکیشن میں قانون کے طالب علم تھے۔ ایک لکچر کے دوران ایک قانونی مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے انگریز پروفیسر نے انھیں یہ واقعہ سنایا تھا۔ پروفیسر نے بتایا کہ ایک بڑا صنعتی کارخانہ چلتے چلتے اچانک بند ہوگیا۔ کارخانہ کے انجینئر اس کو دوبارہ چلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آخر ایک بڑے ایکسپرٹ کو بلایا گیا۔ وہ آیا تو اس نے کارخانہ کا ایک راؤنڈ لیا۔ اس نے اس کی مشینیں دیکھیں۔ اس کے بعد وہ ایک جگہ رک گیا۔ اس نے کہا کہ ایک ہتھوڑا لے آؤ۔ ہتھوڑا لایا گیا تو اس نے ایک مقام پر ہتھوڑے سے مارا۔ اس کے بعد مشین حرکت میں آگئی اور کارخانہ چلنے لگا۔
مذکورہ ایکسپرٹ نے واپس جاکر ایک سو پونڈ کا بل بھیج دیا۔ کارخانہ کے منیجر کو یہ بل بہت زیادہ معلوم ہوا۔ اس نے ایکسپرٹ کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ نے تو کوئی کام کیا نہیں، یہاں آکر آپ نے صرف ایک ہتھوڑا مار دیا۔ اس کے لیے ایک سو پونڈ کا بل ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ براہ کرم آپ ہمارے نمائندہ کو مزید اور زیادہ بہتر تفصیلات عطا فرمائیں: Please furnish my client with further and better particulars. اس کے جواب میں مذکورہ ایکسپرٹ نے لکھا کہ میں نے جو بل روانہ کیا تھا وہ بالکل صحیح ہے۔ اصل یہ ہے کہ ۹۹ پونڈ اور ۱۹ شلنگ تو یہ جاننے کے لیے ہیں کہ مشین میں غلطی کیا ہے اورکہاں ہے۔ اور ایک شلنگ ہتھوڑا اٹھا کر مارنے کے لیے :
£ 99.19 to diagnose the disease and one shilling to pick up the hammer and to strike at the right spot. اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمت علم کی ہے۔ اسی طرح آخرت میں سب سے زیادہ قیمت معرفت کی ہوگی۔ جو شخص معرفت خداوندی میں جتنا بلند ہوگا اتنا ہی وہ آخرت میں بلند کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues