دریافت کے ذریعہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۶
دریافت کے ذریعہ
فنِ تعلیم کی ایک اصطلاح ہے جس کو اکتشافی طریقہ (Discovery method) کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ جین پاجئے (Jean Piaget) اور جیروم برونر (Jerome Bruner) وغیرہ کی تحقیقات کی بنیاد پر قائم ہوا ہے۔ اس طریقہ میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ طالب علم کو ہر بات بتائی نہ جائے، بلکہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہ اپنے دماغ کے استعمال سے باتوں کو خود جانے۔ یہ طریقہ مسئلہ حل کرنے پر زور دیتا ہے، اس میں استاد کی رہنمائی کو کم کیا جاتا ہے اور طالب علم کے لیے اس موقع کو بڑھایا جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو اپنے آپ دریافت کرے:
This method emphasizes problem - solving, minimizing guidance by the teacher and maximizing the student's opportunity for exploration and trial and error (EB-III/572). بچوں کی تعلیم کے لیے یہ اصول انسانی فطرت کے مطالعہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر یہ طاقت ور مادہ موجود ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھانا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ آدمی جو بات خود اپنی دریافت کے ذریعہ جانتا ہے وہی حقیقی معنوں میں اس کے ذہن کا جزر بنتی ہے۔ بتائی ہوئی باتیں اکثر بھول جاتی ہیں مگر دریافت کی ہوئی باتیں کبھی نہیں بھولتیں ۔ آدمی کی شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ دخل انھیں باتوں کا ہوتا ہے جن کو وہ خود جانے نہ کہ وہ جن کو اس نے دوسروں سے سن لیا ہو ۔
یہی اکتشافی طریقہ دین میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن نے اپنے مطلوب انسانوں کی صفت یہ بتائی ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں (الذین یؤمنون بالغیب) غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں، نا معلوم کو معلوم بنانا ہے۔ ایک چیز جو انسان کے شعوری علم سے باہر تھی اس کو شعوری علم کے دائرہ میں لے آنا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اور عالمِ آخرت کو انسان کی نظروں سے چھپا دیا ہے ۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جو چیز غیب میں ہے اس کو شہود بنانا ہے ۔ اسی کا نام ایمان ہے۔ اس ایمان میں جو شخص جتنا آگے ہوگا اتنا ہی وہ آخرت میں آگے رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues