Al-Risala · April 1987 · page 9

ایک مشورہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۹

ایک مشورہ

یوسف اسلام ایک انگریز نو مسلم ہیں۔ ان کا پہلا نام کیٹ اسٹیونس (Cat Stevens) تھا ۔ ۱۹۷۷ میں انھوں نے لندن کی ایک مسجد میں اسلام قبول کیا۔

لندن کے انگریزی ماہنامہ دی مسلم (مئی جون ۱۹۸۰) میں یوسف اسلام صاحب کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے ۔ انٹرویو لینے والے شخص نے ان سے پوچھا کہ انگلینڈ کے اخبارات مسلسل اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں ، اس کا حل کیا ہے۔ یوسف اسلام صاحب نے جواب دیا : لوگ اتنے نادان نہیں ہیں کہ ہر چیز جو اخبار میں چھپے اس پر یقین کر لیں۔ لوگ اپنی رائیں خود بناتے ہیں۔ تاہم اگر وہ مسلمانوں کو مذکورہ برائی میں ملوث دیکھیں گے تو عین ممکن ہے کہ وہ اخبار کی رپورٹ پر یقین کر لیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل چیز صورت واقعہ ہے نہ کہ اخبار کی خبر۔ اگر مسلمانوں کی عمومی زندگی اس سے مختلف ہو جو اخبار میں کسی " دشمنِ اسلام" نے چھاپی ہے تو کوئی بھی پڑھنے والا اس کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دے گا۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے اخبار میں یہ چھاپے کہ ہندوستان میں جہالت کی شرح سب سے زیادہ عیسائیوں میں ہے۔ پارسیوں میں سب سے زیادہ فقیر ہوتے ہیں۔ سردار قوم سب سے زیادہ بز دل قوم ہے ، تو اس قسم کی باتوں سے کوئی بھی اثر نہیں لے گا۔ کیوں کہ یہ باتیں معلوم واقعات کے سراسر خلاف ہیں ۔ اسی طرح اگر لوگوں کی نظر میں مسلمانوں کی تصویر اچھی بن جائے تو ان کے بارہ میں لوگوں کے برے بیانات اپنے آپ بے اثر ہو کر رہ جائیں گے ۔

اگر لوگوں کی نظر میں مسلمانوں کی عملی تصویر یہ ہو کہ وہ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ وہ آپس میں متحد رہتے ہیں۔ وہ لین دین میں بے انصافی نہیں کرتے۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر مشتعل نہیں ہوتے ۔ وہ انسان کی جان و مال اور عزت کا احترام کرتے ہیں۔ اگر آج لوگوں کے نزدیک مسلمان ہونے کا مطلب یہ بن جائے تو لوگ اخبارات کی مخالفانہ سرگرمیوں کو کوئی اہمیت نہ دیں گے۔ وہ اس قسم کی رپورٹوں اور خبروں کو اتنا غیر اہم سمجھیں گے کہ سرخی دیکھنے کے بعد شاید وہ اس کا مطالعہ بھی نہ کریں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page