Al-Risala · April 1987 · page 8

دوسروں کے ذمہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۸

دوسروں کے ذمہ

اپریل ۱۹۸۶ء کا واقعہ ہے۔ عرب دنیا کے ایک معروف ادیب ڈاکٹر عبدالحلیم عویس) ہمارے مرکز میں آئے اور چند دن ہمارے ساتھ قیام کیا۔ ۱۰ اپریل کو وہ اپنا کوٹ ایک ہینگر پر لٹکا رہے تھے۔ اس وقت وہ مسکرائے اور ایک لطیفہ بیان کیا۔ انھوں نے ایک عرب شخصیت کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان کا قول ہے :

نَحْنُ نُعَلَّقَ عَلَى شَمَّاعَةِ (علاقَة ) الاستعمار كُلَّ أَخطَائِنَا یعنی ہم اپنی تمام غلطیوں کو استعمار کے ہینگر پر لٹکا دیتے ہیں ۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر یہ صحیح ترین تبصرہ ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر جو لکھنے اور بولنے والے پیدا ہوئے ان کو پڑھیے اور سنیے تو تقریباً بلا استثناء یہ ملے گا کہ ہر آدمی مسلمانوں کی بربادی کا مرثیہ پڑھ رہا ہے اور ہر آدمی مسلمانوں کی بربادی کا ذمہ دار دوسری قوموں کو قرار دے رہا ہے ۔

یہ بات اتنی زیادہ عام ہے کہ جو لوگ بظاہر اس سے مختلف بات کہتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ بھی حقیقتہ اس سے مختلف نہیں ہیں ۔ ایک شخص سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک رہنما کا نام لیا جنھوں نے اپنی تقریر میں جوش و خروش کے ساتھ غیر اقوام کی سازشوں کا انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سازشوں نے مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ مذکورہ شخص نے فوراً کہا کہ نہیں ۔ آپ اس رہنما کی فلاں تقریر کو پڑھیے ۔ اس میں انھوں نے مسلمانوں کی بربادی کا ذمہ دار خود مسلمانوں کو قرار دیا ہے ۔ میں نے یہ کہا کہ آپ کا یہ حوالہ صرف مذکورہ رہنما کی تضاد فکری کو بتاتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ انھوں نے اصل حقیقت کو نہیں سمجھا ہے ، اس لیے مجمع کی رعایت سے وہ کبھی ایک بات کہہ دیتے ہیں اور کبھی دوسری بات ۔ اس دنیا میں آدمی صرف اپنے کیے کو بھگتتا ہے۔ اگر دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو بربادی کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ کیوں کہ اصل سبب تو خود اپنے اندر تھا، اور وہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page