Al-Risala · April 1987 · page 11

ملّت کی کہانی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۱

وہ اللہ کے یہاں غضب کے مستحق ہوتے ہیں نہ کہ رحمت و نفرت کے مستحق۔ لارڈ لوھٹین کی مذکورہ تجویز پر عمل کرنے کے لیے انگریزی دانی کی ضرورت تھی، اس لیے عام مسلم رہنماؤں کے لیے یہ عذر ہو سکتا ہے کہ وہ انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک اور دعوتی موقع پیدا کیا تھا، اور اس موقع کو استعمال کرنے کے لیے اپنی مادری زبان ہی کافی تھی۔ مگر یہاں بھی ہمارے رہنما صد فی صد ناکام رہے۔

یہ امکان نو آبادیاتی نظام نے پیدا کیا تھا۔ یورپ کی قومیں جدید طاقت کے زور پر ساری دنیا میں پھیل گئیں۔ اور جگہ جگہ انھوں نے اپنا اقتدار قائم کیا۔ اس قسم کے لوگ خود اپنی ضرورت اور مصلحت کے تحت ہر جگہ کی مقامی زبان بھی سیکھتے تھے۔ مثلاً جو انگریز اس زمانہ میں ہندوستان آئے انھوں نے یہاں کی مقامی زبان بھی سیکھی اور یہ حیثیت اس زمانہ میں جس زبان کو حاصل تھی وہ اردو زبان تھی۔

جن ہندوستانیوں کی عمریں پچاس سال سے اوپر ہیں وہ بخوبی طور پر اس واقعہ کو جانتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء کے انقلاب سے پچھلے ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان اردو تھی۔ تاہم جو لوگ بعد کے زمانہ کی پیداوار ہیں، ان کے سمجھنے کے لیے یہاں میں ایک حوالہ نقل کرتا ہوں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴ء) نے اردو زبان (Urdu Language) کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ، ۱۹۴۷ء کی ملکی تقسیم سے پہلے اردو زبان شمالی ہند کی عمومی طور پر بولی جانے والی زبان تھی جو اس وقت ہندوستانی یا کھڑی بولی کہی جاتی تھی :

The spoken language, referred to before the 1947 partition as Hindustani or Khari Boli, was the lingua franca of northern India (X/297). ایک واقعہ میجر جنرل اجیت انیل رد را ۱۹۱۵ میں ہندوستانی فوج میں داخل ہوئے۔ اب ان کی عمر ۹۰ سال ہو چکی ہے۔ ٹائمس آف انڈیا ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۶) کے ایک اسٹاف رپورٹر سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے پہلے زمانہ کی اپنی بہت سی یاد داشتیں بتائیں۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page