Al-Risala · April 1987 · page 12

ملّت کی کہانی

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲

اس سلسلے میں جو واقعات بتائے ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا۔

۱۹۴۷ سے پہلے جب وہ فوج کی باقاعوہ سروس میں تھے تو فیض احمد فیض بھی ان کے تحت کام کرتے تھے۔ فیض کا تعلق فوج کے رابطہ عامہ (Public relations) کے شعبہ سے تھا۔ ایک بار فیض کے ذمہ یہ کام سپرد ہوا کہ وہ اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا ہندوستانی زبان میں ترجمہ کریں۔ فیض نے ترجمہ کر کے بھیج دیا۔ اس کے بعد فیض احمد فیض اور میجر جنرل ردرا دونوں وائریگل لاج (ر اشٹر پتی بھون) بلائے گئے تاکہ وہ ادائیگی الفاظ کے معاملہ میں وائسرائے کی رہنمائی کر سکیں۔ اس کے بعد میجر جنرل ردرا کے الفاظ یہ ہیں : When Faiz and myself called on the Viceroy to help him with the diction, Mountbatten was pacing up and down his room in the now christened Rashtrapti Bhawan rehearsing his speech. He was speaking Hindustani quite well, much to our surprise. جب فیض احمد فیض اور میں وائسرائے کی ملاقات کے لیے گیے تاکہ الفاظ کی ادائیگی کے معاملہ میں ان کی مدد کریں، تو ماؤنٹ بیٹن اپنے موجودہ راشٹرپتی بھون کے کمرہ میں ادھر سے اُدھر چل رہے تھے اور اپنی تقریر کو دہرارہے تھے۔ اس وقت وہ بالکل صاف ہندوستانی بول رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ہم کو سخت تعجب ہوا۔

یہ واقعہ ۱۹۴۷ سے پہلے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب کہ ملک میں ہندوستانی (یا اردو) کا غلبہ تھا۔ ملک کے اعلیٰ ترین حکام بھی اردو اور ہندوستانی کو بولتے اور سمجھتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہندوستان کی اردو بولنے والی قوم اور حکمرانوں کے درمیان زبان کا دہ فاصلہ (Language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جارہاہے۔ اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت داعی کی جو زبان تھی وہی مدعو کی زبان بھی تھی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ داعیوں کے گروہ نے اس امکان کو ایک فیصد بھی استعمال نہیں کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے لیڈروں نے اس زمانہ میں ان حکمرانوں سے بے شمار ملاقاتیں کیں۔ مگر یہ تمام لیڈر ان حکمرانوں سے صرف مانگنے کے لیے ملتے تھے نہ کہ انھیں دینے کے لیے ۔ وہ یہی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ دور ختم ہو گیا جس میں اردو زبان نے عوامی اہمیت حاصل کی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page