دعوتی عمل
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳
دعوتی عمل
”اس جزیرہ میں تو صرف مگر مچھ اور سانپ اور کھنگھجورے ہیں“ مسیحی سیاح نے اپنی سیاحت سے واپس آکر مسیحی مشنری کو رپورٹ دی۔
”خیر انہیں ہونے دو، یہ بتاؤ کہ کیا وہاں کچھ انسان بھی ہیں“ ”ہاں، ہیں کیوں نہیں۔ مگر ایسے وحشی اور خونخوار ہیں کہ ان کے درمیان قدم رکھنے کا تو خیال بھی نہ کیجئے“ ”بس معلوم ہوگیا۔ اتنی اطلاع کافی ہے۔ انسان جہاں کہیں بھی آباد ہیں، مشنری کا وہاں پہنچنا ضروری ہے“ یہ خلاصہ ہے اس گفتگو کا جو ایک مسیحی سیاح اور لندن مشنری سوسائٹی کے ایک ذمہ دار کے درمیان ۱۸۷۱ء میں جزیرہ نیوگنی کے جنوبی ساحل پر ہوئی۔ اس کے بعد جزیرہ میں مشنری کا کام شروع ہوگیا۔ اور اب اس گفتگو کے سو برس بعد جزیرہ نہ صرف مہذب ہو چکا ہے بلکہ اس کی بیشتر آبادی عیسائی ہے۔ دو ہزار برس پہلے مسیح اس دنیا سے گئے تو ان کے پیچھے صرف ایک درجن عیسائی تھے مگر مسلسل تبلیغ کے نتیجہ میں آج عیسائیوں کی تعداد تمام مذاہب میں سب سے زیادہ ہے۔ عیسائیوں کے تبلیغی ادارے اتنے منظم ہیں اور اتنے وسیع پیمانہ پر کام کر رہے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس کے برعکس مسلمانوں پر ان کے پیغمبر نے یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ وہ قیامت تک ساری قوموں تک اسلام کا پیغام پہو نچاتے رہیں۔ مگر پیغمبر اسلام کے ابتدائی پیرووں کے بعد یہ کام تقریباً بند ہوگیا۔ بلاشبہ اسلام بعد کی صدیوں میں بھی پھیلتا رہا ہے۔ مگر وہ زیادہ تر خود اپنے زور پر پھیلا ہے۔ ورنہ مسلمانوں کا محبوب ترین مشغلہ جس میں وہ موجودہ سائنٹفک دور میں بھی انتہائی انہماک کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، وہ جنگ وجدل اور سیاسی معرکہ آرائی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز انہیں کام ہی نظر نہیں آتی جس میں وہ اپنے آپ کو مشغول کریں۔ اس عموم میں بعض استثناء ضرور ہے۔ مگر وہ استثناء اصاغر کا ہے نہ کہ اکابر کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues