دعوتی عمل
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۵
باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو سکیں ۔
ان تحریکوں کی عظیم الشان کامیابیوں کے درمیان عظیم الشان ناکامی کا سبب صرف ایک تھا۔ وہ یہ کہ تمام کی تمام تحریکیں صرف مسلمانوں میں کام کرتی رہیں۔ ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک نہیں ہے جس کی جدوجہد کا نشانہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہو۔ سب کے سب پرانے خون پر محنت کرتے رہے۔ نئے خون کے لیے ان میں سے کوئی متحرک نہ ہوسکا۔
یہی ان تحریکوں کی ناکامی کا اصل سبب ہے۔ اسلام کی تاریخ کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے کے لیے "نئے خون" کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ دور میں ہماری تمام تحریکیں صرف "پرانے خون" پر اپنی طاقت صرف کرتی رہیں ۔ اس کا نتیجہ جو ہونا تھا وہی ہوا۔ ایک سوسال سے بھی زیادہ عرصہ کی بے شمار کوششیں ضائع ہو کر رہ گئیں ۔ اور اسلام کی تاریخ دوبارہ نہ بنائی جاسکی ۔ بے جان افراد کے ذریعہ جاندار قوم کی تعمیر ممکن نہیں۔ بنوامیہ کے بعد اسلامی تاریخ پر جو زوال آیا اس کو دوبارہ عروج نے خون کے ذریعہ ملا۔ اب موجودہ زمانہ میں اسلام کی تاریخ جس زوال سے دوچار ہے اس کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانا اسی وقت ممکن ہے جب کہ اسلام کی صفوں میں نئے خون کو داخل کیا جائے ۔ یہی پہلے بھی اس مسئلہ کا حل تھا اور یہی آج بھی اس مسئلہ کا حل ہے ۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعہ سے دورِ جدید میں دوبارہ اسلام کی نئی تاریخ بنائی جاسکے۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے:
وان تتولوا يستبدل قوما غيركم ثم اور اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے لا يكونوا امثالكم (ر محمد ۔ آخر ) گا، وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔
دین ایک ابدی حقیقت ہے۔ البتہ دین کے حاملین بدلتے رہتے ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل ہی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ حاملین دین کے اندر مطلوبہ کردار باقی رہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues