اتحاد ملت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۱۶
اتحاد ملت
اتحاد کیا ہے ۔ اتحاد نام ہے اختلاف کے با وجود متحد ہونے کا۔ موجودہ دنیا میں کوئی گروہ اختلاف فکر سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کسی گروہ کے اندر اتحاد صرف اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانتا ہو ۔ ی وجہ ہے کہ اتحاد ہمیشہ صبر کی زمین پر قائم ہوتا ہے ۔ اتحاد صرف کسی قوم کے اندر ظہور میں آتا ہے جس کے اندر برداشت کی طاقت ہو۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں صبر وبرداشت کو کھو دیا ہے ، اس لیے وہ اتحاد کو بھی کھوئے ہوئے ہیں ۔
مسلمانوں کو بے برداشت بنانے کے اصل ذمہ دار مسلمانوں کے عین وہی رہنما ہیں جو مسلمانوں کو اتحاد کا پیغام دے میں سب سے آگے نظر آتے ہیں ۔ ایک رہنما جب اپنے خلاف تنقید سن کر مشتعل ہو جاتا ہے تو وہ اپنے اس عمل سے لوگوں کو بے برداشت ہونے کا سبق دے رہا ہے ۔ ایک رہنما جب کسی مسلم حکمراں کی ” غلطی کو دیکھ کر بپھر اٹھتا ہے اور اس کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کر دیتا ہے تو عین اسی وقت وہ قوم کو بے برداشت بنا رہا ہوتا ہے ۔ ایک رہنما جب غیر قوم کے جلوس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ قوم کو بے برداشت بنانے میں بھی اپنا حصہ ادا کر رہا ہوتا ہے ۔ وغیرہ ہمارے رہنما ہر روز اپنے عمل سے اسی قسم کے نمونے پیش کر رہے ہیں ۔ وہ ہر اختلافی بات پر پرجوش رد عمل ظاہر کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح وہ مسلسل قوم کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ کسی خلاف مزاج بات کو برداشت نہ کرو ، ہر چیز جو تمہیں پسند نہ آئے اس کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاؤ ۔
حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے رہنماؤں کا یہی مزاج ہے۔ ان کا یہ مزاج مسلمانوں کو بے صبری کی تربیت دینے رہا ہے ۔ اور بلا شبہ یہ بے صبری ہی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ــــــــــ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اتحاد کی بھی ایک قیمت ہے ۔ یہ قیمت ہے خلاف اتحاد باتوں کو برداشت کرنا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues